Tameerewatan
tameerewatan

اب اپنا چہرہ بھی کمائی کا ذریعہ، اے آئی نے نیا راستہ کھول دیا

چین میں لوگ اپنی ڈیجیٹل شناخت اے آئی ڈراموں، اشتہارات اور ویڈیو گیمز کیلئے لائسنس پر دینے لگے، معاوضہ استعمال کی مدت اور معاہدے کے مطابق طے ہوتا ہے

چین میں مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی نے کمائی کا ایک منفرد طریقہ متعارف کرا دیا ہے، جہاں عام لوگ اپنے چہرے اور ڈیجیٹل شناخت کو اے آئی سے تیار ہونے والے ڈراموں، اشتہارات اور ویڈیو گیمز میں استعمال کیلئے لائسنس پر دے کر رقم کما رہے ہیں۔

اس مقصد کیلئے مختلف پلیٹ فارمز لوگوں کو اے آئی مواد تیار کرنے والے پروڈیوسرز سے جوڑ رہے ہیں۔ خواہش مند افراد شناخت کی تصدیق کے بعد اپنا ڈیجیٹل پروفائل بناتے ہیں، جس کے بعد پروڈیوسرز اپنے منصوبوں کیلئے موزوں چہرے منتخب کرسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایک چینی بینک ملازم نے صرف تین دن میں اپنے چہرے کے سات مرتبہ استعمال کی اجازت دے کر تقریباً 2,500 یوآن کمائے، جبکہ مختلف پلیٹ فارمز پر معاوضے کی شرح استعمال، منصوبے اور معاہدے کی شرائط کے لحاظ سے مختلف ہے۔

اے آئی کے ذریعے مختصر ڈراموں اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی تیاری میں اضافے کے باعث حقیقی انسانی چہروں کی مانگ بھی سامنے آئی ہے۔ پروڈیوسرز خوبصورت چہروں کے علاوہ منفرد شکل و صورت اور مختلف عمر کے افراد کے چہروں کو بھی ڈیجیٹل کرداروں کیلئے استعمال کررہے ہیں۔

تاہم اس نئی کمائی کے ساتھ رازداری اور ڈیجیٹل شناخت پر اختیار سے متعلق خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معاہدہ کرتے وقت یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ کسی شخص کا چہرہ کہاں، کتنی مدت اور کن مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکے گا، کیونکہ ڈیجیٹل شناخت کے مستقبل میں دوبارہ استعمال ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

اے آئی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ مستقبل میں صرف چہرہ ہی نہیں بلکہ آواز اور دیگر ڈیجیٹل خصوصیات بھی باقاعدہ لائسنسنگ اور آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More