Tameerewatan
tameerewatan

الیکٹرک گاڑی خریدنے والے ہوشیار، نئی تحقیق میں اہم مسئلہ سامنے آگیا

بھاری بیٹری اور موٹر کی فوری طاقت ٹائروں پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے، الیکٹرک گاڑیوں میں پہیوں سے متعلق خرابیوں کا امکان پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 1.8 گنا زیادہ

لندن: الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے استعمال کے درمیان ایک نئی تحقیق میں ایسا مسئلہ سامنے آیا ہے جو ان گاڑیوں کے مالکان کیلئے اضافی اخراجات کا باعث بن سکتا ہے۔

برطانیہ میں گاڑیوں کے لازمی معائنے کے 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد نتائج کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ الیکٹرک گاڑیوں میں پہیوں سے متعلق خرابیوں کا امکان پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 1.8 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس کی بڑی وجوہات الیکٹرک گاڑیوں کی بھاری بیٹریاں اور موٹر سے فوری طور پر ملنے والی زیادہ طاقت ہیں۔ بعض الیکٹرک گاڑیوں میں بیٹری کا وزن تقریباً 299 سے 499 کلوگرام تک ہوسکتا ہے اور یہ گاڑی کے مجموعی وزن کا ایک چوتھائی تک بنتا ہے۔

زیادہ وزن کے ساتھ الیکٹرک موٹر گاڑی چلتے ہی پہیوں کو فوری طاقت فراہم کرتی ہے، جس کے باعث ٹائروں پر دباؤ بڑھتا ہے اور ان کے نسبتاً جلد گھسنے یا خراب ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں پرانے ماڈلز کی الیکٹرک گاڑیوں میں ٹائروں کے مسائل زیادہ نمایاں پائے گئے، جبکہ بعض گاڑیوں میں بریک سے متعلق خرابیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق ان مسائل کے باعث بعض الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کو ٹائر تبدیل کرنے اور اضافی مرمت پر زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے، خصوصاً مہنگے ٹائروں کی تبدیلی پر اخراجات خاصے بڑھ سکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More