افغانستان جنوبی ایشیا میں سب سے پیچھے، عالمی رپورٹ میں تشویشناک اعدادوشمار
پازیٹو پیس رپورٹ 2026 میں افغانستان 163 ممالک میں 157ویں نمبر پر، گزشتہ دہائی میں صورتحال مزید خراب، صحافتی آزادی میں بھی بڑی تنزلی ریکارڈ
کابل: آسٹریلوی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی پازیٹو پیس رپورٹ 2026 میں افغانستان کی کارکردگی کو جنوبی ایشیا میں انتہائی کمزور قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پازیٹو پیس انڈیکس میں افغانستان 163 ممالک میں 157ویں نمبر پر رہا اور دنیا کے نچلے درجے پر موجود ممالک میں شامل ہوگیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے پازیٹو پیس انڈیکس میں گزشتہ دہائی کے دوران 3.3 فیصد تنزلی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اس کی مجموعی صورتحال نمایاں طور پر خراب ہوئی۔
رپورٹ میں صحافتی آزادی کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں اس شعبے میں 78.8 فیصد تنزلی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی ملک جنوبی ایشیا میں انتہائی نچلی سطح پر آگیا۔
پازیٹو پیس انڈیکس کسی ملک میں مضبوط اداروں، معاشی ماحول، معلومات تک رسائی، بدعنوانی کی سطح، انسانی وسائل اور معاشرتی حالات سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر پائیدار امن کی صلاحیت کا جائزہ لیتا ہے۔