امن چاہتے ہیں، مگر جنگ چھڑی تو تباہ کن ہوگی؛ ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی وفد نیویارک جنگ نہیں بلکہ امن کی راہ ہموار کرنے آیا، حقیقی سفارت کاری کیلئے تیار ہیں لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا
نیویارک: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امن اور حقیقی سفارت کاری کیلئے تیار ہے، تاہم کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے اس کے نتیجے میں انتہائی تباہ کن جنگ ہی کیوں نہ چھڑ جائے۔
عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر مسعود پزشکیان اور وہ نیویارک جنگ کی وکالت کیلئے نہیں بلکہ امن کی راہ ہموار کرنے کیلئے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے لیکن کسی بھی حملے کے مقابلے کیلئے بھی تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات حل کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ثالث دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم اہم معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فاصلے موجود ہیں۔
ایران نے حالیہ دنوں میں سات روزہ منصوبہ بھی پیش کیا تھا جس کے تحت بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور وسیع تر مذاکرات کی جانب بڑھنے کی تجویز دی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی پیش کردہ تجویز مسترد کرچکے ہیں، تاہم انہوں نے مزید مذاکرات کا امکان برقرار رکھا ہے۔ دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ وہ دباؤ کے تحت نہیں بلکہ باہمی شرائط اور حقیقی سفارت کاری کے ذریعے تنازع کا حل چاہتا ہے۔