50 ارب کا ہدف، ٹیکس اسکیم میں صرف 2 نئے دکاندار شامل
حکومت کی ایک فیصد فکسڈ ٹیکس اسکیم خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی، اب تک صرف 26 ملین روپے جمع، ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر
اسلام آباد: تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے متعارف کرائی گئی ایک فیصد فکسڈ ٹیکس اسکیم اب تک توقعات کے مطابق نتائج نہیں دے سکی اور اسکیم کے تحت صرف دو نئے دکانداروں نے ریٹرن جمع کرائے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اسکیم میں مجموعی طور پر 317 دکاندار شامل ہوئے ہیں، تاہم ان میں سے 315 پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ تھے۔ صرف دو نئے دکاندار ٹیکس نیٹ میں آئے، جن میں ایک کا تعلق کوئٹہ اور دوسرے کا راولپنڈی سے ہے۔
حکومت نے رواں مالی سال اس اسکیم کے ذریعے تاجروں سے 50 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم اب تک صرف 26 ملین روپے جمع ہوسکے ہیں۔ مزید 44 نئے تاجروں نے ریٹرن تیار کیے ہیں لیکن انہیں ابھی جمع نہیں کرایا گیا۔
اسکیم کے تحت چھوٹے ریٹیلرز کی سالانہ فروخت پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ اہل دکانداروں کو ٹیکس آڈٹ، پوائنٹ آف سیل سسٹم کی تنصیب اور ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ بننے سمیت بعض شرائط سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
دکانداروں کیلئے ریٹرن جمع کرانے کی قانونی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے، جبکہ حکومت نے اسکیم سے متعلق آگاہی مہم مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری سطح پر بھی 22 ستمبر کو اسکیم کی آگاہی بڑھانے اور تاجر نمائندوں کی مدد سے دکانداروں تک معلومات پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا۔