امریکا اور ایران میں 3 گھنٹے طویل مذاکرات، ٹرمپ نے بڑا عندیہ دے دیا
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی اور ایرانی فریق کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بات چیت، ایک اور ملاقات جلد متوقع، ایران سے معاہدے میں پیش رفت کی امید ہے: امریکی صدر
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر تقریباً تین گھنٹے طویل بات چیت ہوئی، جسے انہوں نے مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی نمائندوں میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت اچھی رہی اور اب دیکھنا ہوگا کہ اس سفارتی رابطے سے کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔
بعد ازاں اسٹیو وٹکوف نے وضاحت کی کہ امریکی اور ایرانی فریق کے درمیان مذاکرات براہِ راست ملاقات کے بجائے ثالثوں کے ذریعے ہوئے، جو دونوں جانب پیغامات پہنچاتے رہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک اور ملاقات مستقبل قریب میں متوقع ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کی جانب پیش رفت کرسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے یا بعد میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کیلئے بھی کسی سمجھوتے تک پہنچنا فائدہ مند ہوگا۔