سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والوں کیلئے ایف بی آر کا نیا ٹیکس نظام
سوشل میڈیا آمدن ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنا ہوگی، ویوز اور حقیقی معاوضہ آمدن کے تعین کی بنیاد بنیں گے، قابلِ اجازت اخراجات کی حد بھی مقرر
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کیلئے ٹیکس کے تعین اور وصولی کا نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو انکم ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنا ہوگا۔
ایف بی آر نے اس حوالے سے تین نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں جن میں معاوضے کے عوض سوشل میڈیا مواد تیار کرنے والے افراد کے ساتھ رہائشی اور غیر رہائشی افراد کیلئے قواعد کی وضاحت کی گئی ہے۔
نئے طریقہ کار کے مطابق یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی آمدن کے تعین میں ویوز اور مواد تیار کرنے والے شخص کو حقیقتاً ملنے والے معاوضے کو مدنظر رکھا جائے گا۔
ایف بی آر کے جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق یوٹیوب ویڈیوز کیلئے ایک ہزار ویوز پر 195 روپے کا ریونیو فارمولہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم جہاں مواد تیار کرنے والے شخص کو حقیقی معاوضہ حاصل ہورہا ہو، وہاں قابلِ ٹیکس آمدن کے تعین میں اصل وصول شدہ رقم بھی دیکھی جائے گی۔
قواعد کے تحت سوشل میڈیا آمدن کے مقابل قابلِ اجازت اخراجات کی حد مجموعی آمدن کے 30 فیصد تک مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد قابلِ ٹیکس آمدن کا تعین کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے متعلقہ افراد کیلئے سہ ماہی ایڈوانس انکم ٹیکس کی ادائیگی اور اپنی آمدن ٹیکس ریٹرن کے مخصوص حصے میں ظاہر کرنے کا طریقہ بھی وضع کیا گیا ہے۔
نئے قواعد کا اطلاق بعض شرائط کے تحت غیر رہائشی افراد پر بھی ہوگا، اگر ان کی سوشل میڈیا آمدن پاکستان سے حاصل ہونے والی آمدن کے زمرے میں آتی ہو۔
ایف بی آر کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی سوشل میڈیا آمدن اصل سے کم ظاہر کرتا ہے تو متعلقہ کمشنر شواہد طلب کرکے قابلِ ٹیکس آمدن کا تعین اور اس کے مطابق واجب الادا ٹیکس وصول کرسکتا ہے۔
نئے طریقہ کار کا مقصد سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنا اور آمدن، قابلِ اجازت اخراجات اور ٹیکس ادائیگی کے اصول واضح کرنا ہے۔