تیل کی صنعت میں تہلکہ مچانے والی نئی ٹیکنالوجی
تیل صاف کرنے کے عمل میں توانائی کی کھپت 90 فیصد تک کم کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا، کامیابی کی صورت میں ریفائننگ انڈسٹری میں بڑی تبدیلی متوقع
چینی سائنس دانوں کی نئی ٹیکنالوجی سے ریفائننگ کے دوران توانائی کی کھپت میں 90 فیصد تک کمی ممکن، صنعتی سطح پر کامیابی تیل کی صنعت میں بڑی تبدیلی لاسکتی ہےبیجنگ: چینی سائنس دانوں نے خام تیل کو صاف کرنے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے ذریعے ریفائننگ کے عمل میں استعمال ہونے والی توانائی میں 90 فیصد تک کمی لانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
خام تیل سے پٹرول، پلاسٹک اور دیگر مصنوعات تیار کرنے کے لیے روایتی طور پر ڈسٹلیشن کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں خام تیل کو بار بار گرم کرکے اس میں موجود مختلف مرکبات کو ان کے ابلنے کے مختلف درجہ حرارت کی بنیاد پر الگ کیا جاتا ہے، جس کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے۔
نئی ٹیکنالوجی اس روایتی طریقے سے مختلف ہے اور مالیکیولر سطح پر کام کرتی ہے۔ اس میں خام تیل کے مختلف مرکبات کو شناخت کرکے براہ راست متعلقہ پیداواری عمل کی طرف منتقل کیا جاسکتا ہے، جس سے توانائی اور دیگر وسائل کا استعمال زیادہ مؤثر ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ صنعتی پیمانے پر کامیابی سے استعمال کیا گیا تو تیل صاف کرنے کی لاگت میں نمایاں کمی کے ساتھ توانائی کی بڑی بچت بھی ممکن ہوگی۔
نئی ٹیکنالوجی سے کاربن کے اخراج میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر کامیاب نفاذ کی صورت میں یہ پیش رفت مستقبل میں عالمی آئل ریفائننگ انڈسٹری کے روایتی طریقہ کار کو نمایاں طور پر تبدیل کرسکتی ہے۔