نئی آٹو پالیسی پھر تاخیر کا شکار؟
آئندہ 5 سال کی آٹو پالیسی کی حتمی منظوری آئی ایم ایف سے مشاورت سے مشروط، جائزہ مذاکرات کے بعد اہم پیش رفت متوقع
اسلام آباد: ملک کی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کی حتمی منظوری میں مزید تاخیر کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ حکومت نے اس حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت مکمل کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نئی آٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2026-31 کا مسودہ تیار کرچکی ہے، تاہم اسے حتمی منظوری ملنا ابھی باقی ہے۔
نئی پالیسی کے مسودے پر آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کی جائے گی اور اس عمل کے بعد پالیسی کو حتمی منظوری کے مراحل سے گزارا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی جائزہ ٹیم کے رواں ماہ کے آخر میں پاکستان آنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
نئی آٹو پالیسی میں آئندہ پانچ برس کے دوران پاکستان کے آٹو سیکٹر کی ترقی، مقامی صنعت کو فروغ دینے اور گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے لائحہ عمل شامل کیا گیا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نئی آٹو پالیسی کے مسودے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جس کے بعد اسے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے لیے آگے بڑھایا گیا تھا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے باعث پالیسی کے باضابطہ نفاذ میں مزید وقت لگنے کا امکان ہے، تاہم حتمی فیصلہ متعلقہ منظوریوں کے بعد سامنے آئے گا۔