غزہ جنگ کے اندرونی راز سامنے لانے والی اسرائیلی فلم نے تہلکہ مچا دیا
’نازا‘ میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ 24 افراد کی گواہیاں شامل، اسرائیل میں شدید تنازع کے بعد امریکا میں پریمیئر، تھیٹر کے باہر حامی اور مخالف مظاہرین بھی آمنے سامنے
نیویارک: غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں سے متعلق بنائی گئی دستاویزی فلم ’نازا‘ (NAZA) کا شمالی امریکا میں پریمیئر نیویارک فلم فیسٹیول میں کردیا گیا، جہاں فلم کی نمائش کے موقع پر اسرائیل کے حامی اور فلم کی حمایت کرنے والے مظاہرین بھی موجود تھے۔
اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہم اور ریچل زور کی ہدایت کاری میں بننے والی دستاویزی فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ 24 گمنام افراد کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں۔ ان گواہیوں کے ذریعے غزہ میں اہداف کے انتخاب، فضائی حملوں اور ان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے استعمال سے متعلق الزامات اور تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔
فلم ساز یووال ابراہم نے نیویارک میں پریمیئر کے موقع پر کہا کہ وہ اس دستاویزی فلم کے ذریعے امریکی ناظرین تک بھی اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب فلم کی نمائش کے موقع پر اسرائیل کے حامی مظاہرین نے اسے یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے پس منظر کو بھی نمایاں کیا جائے۔
ابراہم نے 7 اکتوبر کے حملوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان حملوں کو بعد میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
’نازا‘ اس سے قبل وینس فلم فیسٹیول میں اسپیشل جیوری پرائز بھی جیت چکی ہے۔ فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیل میں اس کے فلم سازوں کو شدید ردعمل اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے بھی فلم کے مندرجات پر سخت اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
فلم کو آنے والے ہفتوں میں 50 سے زائد ممالک کے سینما گھروں میں پیش کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس کے بعد اسے آن لائن بھی جاری کیا جائے گا۔