مائنس عمران خان کا راستہ پاکستان کیلئے تباہ کن ہوگا: محمود اچکزئی
لانگ مارچ سیاسی جدوجہد کا حصہ ہے، تمام سیاسی قوتیں کم از کم مشترکہ نکات پر اکٹھی ہوں، آئین کا احترام اور عوام کو حقِ حکمرانی دینا ہوگا، قائد حزب اختلاف
کوئٹہ/اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ یہ سوچنا کہ مائنس عمران خان فارمولا کامیاب ہوسکتا ہے، ان کے نزدیک پاکستان کیلئے خطرناک راستہ ہوگا۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جمہوری احتجاج عوام کا حق ہے اور سیاسی مسائل کے حل کیلئے آئین اور آئینی فریم ورک کی پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں اور قیادت کو کم از کم مشترکہ نکات پر اکٹھا ہونا چاہیے۔
محمود اچکزئی نے عدلیہ اور میڈیا کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ان کے مطابق ناانصافیوں سے معاشرے میں تلخیاں اور نفرتیں بڑھتی ہیں اور کوئی بھی نظام انصاف کے بغیر مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو حقِ حکمرانی میں شامل کرنے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے مسائل کے حل میں براہِ راست کردار ادا کرسکیں۔
عمران خان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ ان کی کئی برسوں سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، تاہم انہیں یقین ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سیاسی انتقام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی لوگوں کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے ملکی اداروں کے سیاسی کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حقیقی سیاسی قیادت مصنوعی طور پر تیار نہیں کی جاسکتی بلکہ سیاستدان عوام کے درمیان سے سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالامال ملک ہے اور بہتر طرزِ حکمرانی، آئینی بالادستی اور عوام کی فیصلہ سازی میں شمولیت کے ذریعے ملک کو درپیش مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔