غزہ جنگ پر دستاویزی فلم نے اسرائیل میں تنازع کھڑا کردیا، فلمسازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی
وینس فلم فیسٹیول میں دستاویزی فلم کو اعزاز ملنے پر اسرائیلی وزیر ثقافت برہم، فلمسازوں کے اقدام کو ریاست سے غداری قرار دیتے ہوئے شہریت منسوخی کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان
تل ابیب: غزہ جنگ اور شہری ہلاکتوں سے متعلق بنائی گئی اسرائیلی دستاویزی فلم کو وینس فلم فیسٹیول میں پذیرائی ملنے کے بعد اسرائیل میں شدید تنازع پیدا ہوگیا، جہاں وزیر ثقافت و کھیل مکی زوہر نے فلم بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر ثقافت نے فلم کو بین الاقوامی سطح پر اعزاز ملنے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فلمسازوں پر اپنے ملک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے فلم بنانے کے اقدام کو ریاست سے غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں فلمسازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرانے کے لیے فوری کارروائی کریں گے۔
دستاویزی فلم میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ اس میں اسرائیلی فوج سے وابستہ افراد کے انٹرویوز اور بیانات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
فلم کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی نے معاملے کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ اسرائیلی وزیر کا مؤقف ہے کہ ایسی فلموں کے ذریعے بیرون ملک اسرائیل کے تشخص کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔
تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق فلمسازوں کی شہریت تاحال منسوخ نہیں کی گئی اور فی الحال اسرائیلی وزیر کی جانب سے اس سلسلے میں کارروائی شروع کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔