فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت کیلئے شام کو بھی خصوصی بینچ کام کرے گا، چیف جسٹس
جلد سماعت کی درخواستوں کیلئے الگ بینچ تشکیل دیا جارہا ہے، مقدمات مقرر کرنے کی پالیسی ویب سائٹ پر دستیاب، شریعت اپیلیٹ بینچ ہر دو ماہ بعد ایک ہفتہ سماعت کرے گا
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی مقدمات کی بروقت سماعت یقینی بنانے کے لیے شام کے اوقات میں بھی بینچ بٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد سماعت کی درخواستوں کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیا جارہا ہے۔
فل کورٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمات مقرر کرنے کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کے لیے متعلقہ پالیسی ویب سائٹ پر جاری کردی گئی ہے اور اب کیسز کا تعین طے شدہ طریقہ کار کے مطابق کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کاز لسٹ میں شامل ہونے والے مقدمات کی دو افسران دوبارہ جانچ بھی کرتے ہیں تاکہ کیسز مقرر کرنے کے عمل میں شفافیت برقرار رکھی جاسکے۔ ان کے مطابق ایک بینچ کے سامنے ایک ہی دن میں 75 مقدمات تک سماعت کے لیے مقرر کیے گئے۔
چیف جسٹس نے ججز کی تعطیلات سے متعلق تاثر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ججز تین ماہ تک چھٹیوں پر رہتے ہیں، بلکہ تین ماہ کے عرصے کے دوران ایک ماہ کی تعطیلات ہوتی ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ فوری سماعت کے متقاضی مقدمات کے لیے الگ بینچ قائم کیا جارہا ہے جو ضرورت کے مطابق شام کے اوقات میں بھی مقدمات کی سماعت کرے گا، جس کا مقصد سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی میں سہولت دینا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شریعت اپیلیٹ بینچ بھی باقاعدہ شیڈول کے تحت ہر دو ماہ بعد ایک ہفتے کے لیے بیٹھے گا۔