مکہ پر حوثی ڈرون حملہ ناکام
سعودی دفاعی نظام نے ڈرون کو مقدس شہر کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کردیا، ملبہ مکہ کے جنوب میں جاگرا
ریاض: سعودی قیادت میں یمن کے لیے قائم اتحاد نے مکہ مکرمہ کی جانب آنے والے حوثی ڈرون کو ہدف تک پہنچنے سے قبل تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو 15 ستمبر کی شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر مکہ مکرمہ کے جنوب میں اس وقت روک کر تباہ کیا گیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے والا تھا۔ تباہ شدہ ڈرون کا ملبہ شہر کے جنوبی حصے میں گرا۔
ترجمان نے اسے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی دوسری کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل جولائی 2017 میں بھی مقدس شہر کی جانب بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا۔
ترکی المالکی نے کہا کہ مسجد الحرام، دیگر مقدس مقامات اور حجاج و زائرین کا تحفظ سعودی حکام کی اولین ترجیح ہے اور ایسے ممکنہ حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
واقعے سے قبل سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت مختلف علاقوں میں ممکنہ فضائی خطرے کے پیش نظر ہنگامی الرٹس جاری کیے تھے، تاہم بعد ازاں مکہ میں خطرہ ٹل جانے کا اعلان کردیا گیا۔
سعودی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں 13 شہری زخمی ہوئے جبکہ 7 گھروں اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یمن میں حوثیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان حالیہ عرصے میں کشیدگی دوبارہ بڑھی ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد 2015 سے یمنی حکومت کی حمایت کررہا ہے۔
حوثی گروپ کی جانب سے مکہ کی جانب ڈرون بھیجنے سے متعلق سعودی حکام کے تازہ بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔