Tameerewatan
tameerewatan

مکہ معاہدے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا اہم اعلان

کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مل کر ردعمل کا فیصلہ کریں گے، معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی مشاورت سے ردعمل کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ معاہدے کے تحت کسی بھی ممکنہ جارحیت کے بعد تینوں ممالک حالات کا جائزہ لیں گے اور مشترکہ فیصلے کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔ دفاعی وعدوں پر عملی طور پر کس انداز میں عمل کیا جائے گا، اس کی تفصیلات سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک یا اتحاد کے خلاف جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ کا حصہ بننے کا خواہاں نہیں اور اس کی دفاعی تیاریوں کا بنیادی مقصد ملکی سلامتی کا تحفظ ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور کسی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سیاسی اور عسکری اہداف سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ قومی اور سیاسی مقاصد کا تعین سیاسی قیادت کرتی ہے، جبکہ فوج اور ریاست کے مقاصد ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹس کا بھی حوالہ دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنے دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ تعلقات برقرار رکھیں گے اور مکہ دفاعی معاہدہ ان کے دوسرے بین الاقوامی تعلقات یا اتحادوں کا متبادل نہیں بلکہ باہمی دفاعی تعاون کا ایک انتظام ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More