لاہور میں غیرملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، تحقیقات میں نئے انکشافات
آذربائیجانی خاتون کی پنجاب اسمبلی میں موجودگی کی تصاویر بھی سامنے آگئیں، واردات میں استعمال گاڑی برآمد، دو خواتین سمیت 5 مبینہ ملزمان کی شناخت مکمل
لاہور: ڈیفنس سی میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی تحویل میں لے کر ملزمان کی تلاش تیز کردی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق سفید رنگ کی گاڑی مبینہ طور پر خاتون کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جانے کیلئے استعمال کی گئی تھی۔ گاڑی ایک مرکزی ملزم کے رشتہ دار کے گھر سے برآمد کرکے تھانہ ڈیفنس سی منتقل کردی گئی، جہاں اس کا فرانزک معائنہ اور دیگر شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔
تحقیقات کے دوران عمر، محسن اور تنویر سمیت دو خواتین کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مسکان نامی خاتون نے مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی کو فلیٹ تک پہنچایا تھا۔ مرکزی ملزمان کی گرفتاری کیلئے لاہور سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے جاری ہیں۔
پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے کر تفتیش بھی شروع کردی ہے جبکہ مبینہ ملزمان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فونز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سفری دستاویزات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
تحقیقات کے دوران متاثرہ خاتون کی پنجاب اسمبلی میں موجودگی کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں پولیس نے تفتیش کا حصہ بنالیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق خاتون کپڑے کے کاروبار کے سلسلے میں لاہور اور فیصل آباد آتی جاتی رہی ہے۔
متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ اور اس کے بیان کی روشنی میں واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور مرکزی ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف ٹیمیں کارروائیاں کررہی ہیں۔