بلوچستان میں 5 ہزار سرکاری آسامیاں ختم، مزید 1500 کی باری
محکمہ مواصلات و تعمیرات نے جدید ٹیکنالوجی کے باعث غیر ضروری ہونے والی 74 کٹیگریز کی آسامیاں ختم کردیں، اقدام سے مستقبل میں اربوں روپے کی بچت متوقع
کوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات حکومت بلوچستان نے انتظامی اور مالی ڈھانچے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بڑا اقدام کرتے ہوئے 74 مختلف کٹیگریز کی تقریباً پانچ ہزار غیر ضروری آسامیاں ختم کردی ہیں، جبکہ مزید 1500 پوسٹوں کے خاتمے پر بھی کام جاری ہے۔
محکمہ کے مطابق ختم کی گئی آسامیوں کا تعلق ایسے شعبوں اور کاموں سے ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے استعمال کے بعد روایتی افرادی قوت کی ضرورت نمایاں طور پر کم یا مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ مستقبل میں بھی ان آسامیوں کی ضرورت باقی رہنے کا امکان نہیں تھا۔
ماضی میں متعدد سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے بڑی تعداد میں افرادی قوت اور مخصوص نوعیت کی روایتی پوسٹیں ضروری سمجھی جاتی تھیں، تاہم جدید مشینری اور ٹیکنالوجی نے کام کے طریقہ کار کو تبدیل کردیا ہے۔ اسی تناظر میں محکمہ نے ایسی پوسٹوں کو برقرار رکھنے کے بجائے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
محکمہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ختم ہونے والی آسامیوں پر موجود ایسے ملازمین جو اپنی 30 سالہ سروس مکمل کررہے ہیں، انہیں قواعد کے مطابق مکمل ریٹائرمنٹ کے حقوق حاصل ہوں گے۔ اس طرح انتظامی اصلاحات کے ساتھ ملازمین کے جائز ریٹائرمنٹ حقوق کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔
تقریباً پانچ ہزار آسامیوں کے خاتمے سے حکومت بلوچستان کو آنے والے برسوں میں اربوں روپے کی بچت ہونے کی توقع ہے۔ ان پوسٹوں کو برقرار رکھنے یا مستقبل میں دوبارہ پُر کرنے کی صورت میں حکومت کو تنخواہوں، مراعات، پنشن اور دیگر اخراجات کی مد میں طویل عرصے تک مالی ذمہ داریاں برداشت کرنا پڑتیں۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات میں مزید تقریباً 1500 ایسی پوسٹوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث اپنی افادیت کھو چکی ہیں اور انہیں ختم کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف مستقبل کے غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ دستیاب مالی اور انسانی وسائل کو ان شعبوں میں استعمال کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہوگی جہاں موجودہ حالات میں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔