Tameerewatan
tameerewatan

خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں، راولپنڈی میں نیا تنازع کھڑا ہوگیا

اڈیالہ جیل سے کچہری لائی جانے والی خواتین ملزمان کے دونوں ہاتھ 6 سے 7 گھنٹے ہتھکڑیوں میں جکڑے رہے، وکلا نے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا

راولپنڈی: راولپنڈی میں اڈیالہ جیل سے عدالت لائی جانے والی خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر ان کے اہل خانہ اور ڈسٹرکٹ بار کے وکلا نے شدید احتجاج کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خواتین ملزمان کو اڈیالہ جیل سے کچہری لانے اور عدالتی کارروائی کے بعد واپس جیل منتقل کرنے کے دوران تقریباً 6 سے 7 گھنٹے تک دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی رہیں۔

خواتین ملزمان نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ہاتھ بندھے ہونے کے باعث انہیں پولیس وین میں سوار ہونے اور اترنے سمیت روزمرہ ضروریات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

خواتین نے پولیس اہلکاروں کے رویے سے متعلق بھی شکایات کیں، جس پر ان کے اہل خانہ اور وکلا نے تحفظات کا اظہار کیا۔

ڈسٹرکٹ بار کے وکلا نے خواتین ملزمان کو اس انداز میں ہتھکڑیاں لگانے پر احتجاج کیا۔ سینئر وکیل شان زیب خان کے مطابق یہ ہدایات سی پی او راولپنڈی کی جانب سے جاری کی گئی تھیں، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو غلط قرار دیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More