سعودی تنصیبات پر حملوں نے تیل کی منڈی ہلا دی، قیمتیں بے قابو ہونے کا خدشہ
برینٹ خام تیل 107.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، سپلائی میں رکاوٹ طویل ہوئی تو عالمی منڈی میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں نے ایک مرتبہ پھر تیزی پکڑ لی ہے، سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث دونوں بڑے عالمی بینچ مارک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 1.37 ڈالر یا 1.3 فیصد اضافے کے بعد 107.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.53 ڈالر یعنی 1.51 فیصد مہنگا ہوکر 102.92 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ دونوں عالمی بینچ مارک گزشتہ کاروباری سیشن میں بھی ایک فیصد سے زیادہ بڑھے تھے۔
سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بندش نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی دستیابی سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔
دوسری جانب خلیجی خطے میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم تازہ حملوں کے باعث سرمایہ کار عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی فراہمی میں موجود رکاوٹ طویل عرصے تک برقرار رہی تو بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔