سیاسی لوگوں سے مذاکرات کیلئے تیار، ہتھیار اٹھانے والوں سے بات نہیں ہوگی: سرفراز بگٹی
نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور میں خطاب، بلوچستان کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے، نوجوانوں اور ریاست کے درمیان خلیج کم کرنے کیلئے انہیں ہر سطح پر سن رہے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان
لاہور: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی لوگوں سے مذاکرات کیلئے ہر وقت تیار ہے، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو حقائق اور تاریخی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صوبے کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے اور حقائق اور تصور کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پسماندگی پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی موجود ہے، لیکن اسے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو توڑنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کیلئے حکومت مختلف سطحوں پر نوجوانوں کی بات سن رہی ہے۔ صوبے کے حالات کا درست تجزیہ کرنے کیلئے تاریخی حقائق اور اصل ماخذ کا مطالعہ ضروری ہے۔
بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ تاریخی حقائق کو درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے خان آف قلات کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں الحاق رضامندی سے ہونے کا ذکر موجود ہے۔
وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں خدمات انجام دینے کے حوالے سے بعض بیوروکریٹس کے تحفظات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افسران بلوچستان آنا پسند نہیں کرتے، تاہم زمینی حالات کا خود مشاہدہ کیے بغیر صوبے کے حقیقی مسائل کو سمجھنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں بلوچستان کے مقامی حالات، عوام کی ضروریات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔