وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ میں کھل کر بول پڑے، کئی اہم پیغامات دے دیے
کشمیر پاکستان کی شہ رگ، حرمین شریفین کی سلامتی ریڈ لائن، پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا، وزیراعظم
نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر، پاک بھارت تعلقات، سندھ طاس معاہدے، حرمین شریفین کی سلامتی، مشرق وسطیٰ اور افغانستان سے دہشت گردی سمیت اہم علاقائی و عالمی معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور، عالمی امن، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ
شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر کو خطے میں پائیدار امن کیلئے بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصواب رائے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔
پانی روکنے کی کوشش پر سخت انتباہ
وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
حرمین شریفین پاکستان کیلئے ریڈ لائن
سعودی عرب کی سلامتی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ پر مبینہ ڈرون حملے کی کوشش اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی دفاع، استحکام اور امن کیلئے مشترکہ عزم ہے۔
پاک بھارت کشیدگی اور ٹرمپ کا ذکر
وزیراعظم نے گزشتہ پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے کردار کا ذکر کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کو دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم قرار دیا۔
افغانستان سے حملے بند کرنے کا مطالبہ
شہباز شریف نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کیلئے قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔
ایران امریکا کشیدگی، سفارت کاری پر زور
وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کیلئے انتہائی اہم ہیں اور انہیں تصادم کے مراکز بننے کے بجائے کھلا رہنا چاہیے۔
وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بنیادی تنازعات کے منصفانہ حل، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ذریعے پائیدار امن کی راہ ہموار کی جائے۔