کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات پر کارروائیاں تیز
10 ہزار 650 لیٹر دودھ کی جانچ، بعض نمونوں میں 30 فیصد تک پانی کی ملاوٹ سامنے آگئی، 120 کلو غیر صحت بخش دہی تلف، 2 دودھ یونٹس سمیت نمکو یونٹ سیل
کوئٹہ: بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹی اور غیر معیاری دودھ و دہی کے خلاف خصوصی مہم تیز کرتے ہوئے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران ہزاروں لیٹر دودھ کی موقع پر جانچ کی، جس میں بعض نمونوں میں 30 فیصد تک پانی کی ملاوٹ سامنے آئی۔
ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن اور صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ہدایات پر ملاوٹی دودھ اور دہی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ایئرپورٹ روڈ، پوت گلی چوک، جدون روڈ، جان محمد روڈ اور ملحقہ علاقوں میں دودھ بردار گاڑیوں، ملک شاپس، گھروں اور دیگر مشتبہ مقامات کی چیکنگ کی۔ اس دوران اسکمڈ ملک پاؤڈر کی ذخیرہ اندوزی اور استعمال کی بھی نگرانی کی گئی۔
کارروائیوں کے دوران موبائل لیبارٹریز کے ذریعے مجموعی طور پر 10 ہزار 650 لیٹر دودھ اور سینکڑوں کلو دہی کی موقع پر جانچ کی گئی، جبکہ 120 کلو ملاوٹی اور غیر صحت بخش دہی تلف کردیا گیا۔
ایئرپورٹ روڈ پر چار دودھ کی دکانوں کو دہی میں اسکمڈ ملک پاؤڈر کی موجودگی پر جرمانے کیے گئے، جبکہ ناقص حفظانِ صحت پر ایک دودھ سپلائر کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
پوت گلی چوک پر پانچ دودھ بردار گاڑیوں کو جرمانے کیے گئے، جہاں موبائل لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران بعض نمونوں میں 13 فیصد تک پانی کی ملاوٹ سامنے آئی۔
جدون روڈ، جان محمد روڈ اور ملحقہ علاقوں میں دو دودھ یونٹس سیل کیے گئے۔ ایک یونٹ سے لیے گئے دودھ کے نمونے میں 30 فیصد پانی کی ملاوٹ کی نشاندہی ہوئی۔
دورانِ انسپیکشن ایک نمکو مینوفیکچرنگ یونٹ بھی سیل کیا گیا، جہاں اتھارٹی کے مطابق لائسنس، رجسٹریشن، اسٹوریج، صفائی، پیسٹ مینجمنٹ اور پروسیسنگ سے متعلق متعدد خلاف ورزیاں پائی گئیں۔
ڈی جی بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دودھ کی سپلائی سے فروخت تک تمام مراحل کی نگرانی جاری رہے گی اور موبائل لیبارٹریز کے ذریعے موقع پر ٹیسٹنگ اور فوری کارروائی کا سلسلہ مزید مؤثر بنایا جائے گا۔