پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟ 98 ہزار نوجوانوں کی رائے نے سب کو چونکا دیا
مطالعاتی رپورٹ میں 98 ہزار سے زائد نوجوانوں کی آراء کا جائزہ لینے کا دعویٰ، بلوچستان میں 71، پنجاب میں 79 فیصد نوجوان نئے صوبوں کے قیام کے حامی قرار
اسلام آباد: پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ایک مطالعاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں جائزہ لی گئی نوجوانوں کی آراء میں 76 فیصد نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت جبکہ 24 فیصد نے مخالفت کی۔
دی انسٹی ٹیوٹ آف انسائٹس اینڈ امپیکٹ کے اسٹریٹجک اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 31 جولائی سے 20 ستمبر 2026 تک سوشل میڈیا، آن لائن ذرائع اور دستیاب مطبوعہ رپورٹنگ سمیت مختلف ذرائع سے مجموعی طور پر 98 ہزار 368 نوجوانوں کی آراء کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت سب سے زیادہ 79 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ 21 فیصد آراء مخالفت میں رہیں۔ خیبرپختونخوا میں 75 فیصد حمایت اور 25 فیصد مخالفت جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح بالترتیب 74 اور 26 فیصد بتائی گئی۔
بلوچستان میں 71 فیصد آراء نئے صوبوں کے حق میں جبکہ 29 فیصد مخالفت میں سامنے آئیں۔ سندھ میں حمایت کا تناسب 59 فیصد اور مخالفت کا 41 فیصد بتایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں رجحان مختلف رہا۔ آزاد کشمیر میں 36 فیصد آراء حمایت اور 64 فیصد مخالفت جبکہ گلگت بلتستان میں 41 فیصد حمایت اور 59 فیصد مخالفت میں سامنے آئیں۔
مطالعے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے بیشتر علاقوں میں نئے صوبوں کے حق میں رجحان نمایاں رہا، جبکہ سندھ میں شناخت اور علاقائی سالمیت سے متعلق خدشات مخالف آراء میں نمایاں تھے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی مجموعی طور پر نئے صوبوں کے حق میں زیادہ آراء ریکارڈ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔