Tameerewatan
tameerewatan

خواجہ فرید یونیورسٹی، لیکچرار پر طالبہ کو ہراساں کرنے کا الزام، واٹس ایپ پیغامات سامنے آگئے

طالبہ کا لیکچرار پر نمبرز اور گریڈز کے بدلے ملاقات کیلئے دباؤ ڈالنے اور انکار پر تعلیمی نقصان کی دھمکی دینے کا الزام، یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی

رحیم یار خان: خواجہ فرید یونیورسٹی میں ایک لیکچرار پر طالبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس گردش کرنے لگے ہیں۔

طالبہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ لیکچرار نے اسے نامناسب واٹس ایپ پیغامات بھیجے اور ملاقات کیلئے دباؤ ڈالا، جبکہ انکار کی صورت میں تعلیمی نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دی گئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مبینہ اسکرین شاٹس میں نمبرز اور گریڈز سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ طالبہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسے یونیورسٹی، ایس ایم ایس اور فون کالز کے ذریعے پریشان کیا جاتا رہا اور اس کے پاس رابطوں اور پیغامات کا ریکارڈ موجود ہے۔

طالبہ کے مطابق معاملے سے وائس چانسلر کو ای میل کے ذریعے بھی آگاہ کیا گیا۔

دوسری جانب خواجہ فرید یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے الزامات اور مواد کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق باقاعدہ شکایت موصول ہونے پر ضابطے کے مطابق تحقیقات اور ضروری کارروائی کی جائے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More