Tameerewatan
tameerewatan

سول سروس کا نظام بدلنے کی تیاری، CSS امتحان میں بھی بڑی تبدیلیاں متوقع

وفاقی حکومت نے 11 ارب روپے کے اصلاحاتی پیکیج کو حتمی شکل دے دی، 11 خصوصی کیڈرز، میرٹ پر اعلیٰ تقرریاں، کارکردگی پر مالی مراعات اور ترقی کا نیا نظام تجویز

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سول سروس کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کیلئے اصلاحاتی پیکیج کو حتمی شکل دے دی ہے، جس پر تقریباً 11 ارب روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ مجوزہ اصلاحات میں CSS امتحان، سرکاری افسران کی تقرری، ترقی، کارکردگی اور تربیت کے موجودہ نظام میں اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔

اصلاحاتی پیکیج کے تحت 11 خصوصی پیشہ ورانہ کیڈرز متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرری میں میرٹ، پیشہ ورانہ مہارت اور کارکردگی کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔

مجوزہ نیشنل ایگزیکٹو سروس کے تحت گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے عہدوں پر کھلے مقابلے کے ذریعے پانچ سال کیلئے تقرری کی تجویز ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا نام تبدیل کرکے ہیومن ریسورس اینڈ آرگنائزیشن ڈویلپمنٹ ڈویژن رکھنے کی تجویز بھی پیکیج کا حصہ ہے۔

CSS امتحان برقرار رکھنے کی تجویز ہے، تاہم ابتدائی ٹیسٹ میں کامیابی کیلئے 40 فیصد نمبر مقرر کرنے اور امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت جانچنے پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ پانچ لازمی مضامین اردو میں دینے کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

سرکاری ملازمین کی بھرتی کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کرکے اسے چھ ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ افسران کی کارکردگی کا سال میں دو مرتبہ جائزہ لینے جبکہ ملازمین پر ہونے والے اخراجات کا 5 فیصد کارکردگی کی بنیاد پر مالی مراعات کیلئے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اصلاحات کے تحت مختلف سرکاری تربیتی اداروں کو یکجا کرکے نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن قائم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

مجوزہ نظام میں خصوصی مہارت، قائدانہ صلاحیت اور درست شخص کو درست ذمہ داری دینے کے اصول پر زور دیا گیا ہے۔ منظوری کی صورت میں عمل درآمد کمیٹی اصلاحات کی نگرانی کرے گی جبکہ نئے نظام کو 120 دن میں نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More