Tameerewatan
tameerewatan

نئے صوبوں سے بلوچستان کی تقدیر بدل سکتی ہے، شہری پُرامید

بہتر نمائندگی، تیز رفتار ترقی اور سرکاری سہولیات تک آسان رسائی کی امید، شہریوں نے نئے انتظامی یونٹس کو پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے اہم قرار دے دیا

کوئٹہ: بلوچستان کے بعض شہریوں نے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کو علاقائی ترقی، بہتر حکمرانی اور عوامی سہولیات تک رسائی میں بہتری کا ممکنہ ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے امیدوں کا اظہار کیا ہے۔

شہریوں کے مطابق صوبے کے وسیع رقبے اور دور دراز علاقوں کو درپیش مسائل کے تناظر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کو اپنے مسائل متعلقہ حکام تک پہنچانے اور ان کے بروقت حل میں سہولت مل سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامی تقسیم سے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے، وسائل کی بہتر تقسیم اور سرکاری اداروں کی خدمات کو عوام کے قریب لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

بعض شہریوں نے رائے دی کہ نئے صوبوں کے قیام سے عوامی نمائندگی مزید مؤثر ہوسکتی ہے، جبکہ مقامی سطح پر فیصلوں کے اختیارات بڑھنے سے بنیادی مسائل کے حل میں بھی بہتری آسکتی ہے۔

شہریوں نے امن و امان کے حوالے سے بھی توقع ظاہر کی کہ انتظامی نظام مضبوط اور حکومتی اداروں کی رسائی بہتر ہونے سے دہشت گردی اور بدامنی سے نمٹنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے میں عوامی ضروریات، بہتر حکمرانی اور تمام علاقوں کی متوازن ترقی کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More