نئے صوبے لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں، وزیراعلیٰ بلوچستان
قومی اسمبلی میں نئے صوبوں پر اتفاقِ رائے ہوا تو بلوچستان اسمبلی بھی غور کیلئے تیار ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سیاسی و ریاستی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا، سرفراز بگٹی
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی اسمبلی میں اتفاقِ رائے پیدا ہوتا ہے تو بلوچستان اسمبلی بھی اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم نئے صوبوں کی تشکیل لسانی بنیادوں کے بجائے انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیاسی اور ریاستی قوتوں کو مشترکہ طور پر آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عسکری اور سیاسی قیادت کا مؤقف واضح اور متفقہ ہے اور صوبے میں امن کے قیام تک کوششیں جاری رہیں گی۔
صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ بلوچستان سے کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کرتے، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس میں کمی ضرور آئی ہے۔ انہوں نے حکومت کی مدت سے متعلق مبینہ ڈھائی ڈھائی سالہ معاہدے سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت کا اختیار ہے اور وہ عہدے پر موجود رہنے تک عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، البتہ ایسے نوجوان جو گمراہ ہوکر غلط راستے پر چلے گئے ہیں، انہیں واپس قومی دھارے میں لانے اور قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ کی جانب سے ہمسایہ صوبوں سے متعلق بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جو جدوجہد کررہا ہے وہ صرف صوبے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے امن و سلامتی کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی ادارے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
افغان مہاجرین اور غیر ملکی شہریوں کی واپسی سے متعلق وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان سے تقریباً 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکی شہریوں کو ان کے ممالک واپس بھیجا جاچکا ہے۔ انہوں نے لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے متعلق بعض اوقات قومی سطح پر درست حقائق سامنے نہیں لائے گئے۔
سرفراز بگٹی کے مطابق بلوچستان میں سابق افغان فورسز سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی رہی ہے، تاہم اب ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسے عناصر کو پناہ دے کر اپنے لیے مزید مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم سمیت تمام سرکاری شعبوں میں میرٹ کا فروغ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی رفتار بھی بہتر بنائی گئی ہے اور متعدد منصوبے ماضی کے مقابلے میں کم مدت میں مکمل کیے جارہے ہیں۔