سعودی عرب کی درخواست پر پاکستان کا یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی پر غور
ترکیے ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کی باضابطہ درخواست پر یمن میں حوثی فورسز کے خلاف فضائی کارروائی میں حصہ لینے کے امکان کا سنجیدگی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
پاکستانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حوثیوں کے خلاف یہ ممکنہ فضائی حملے انتہائی جلد کیے جا سکتے ہیں، اور کارروائی کے فوراً بعد اس حوالے سے باضابطہ اعلان بھی متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق زیرِ غور آنے والے اس ممکنہ فوجی آپریشن کا بنیادی مقصد یمن کے صوبہ صعدہ سمیت مختلف اہم علاقوں میں حوثی فورسز کو نشانہ بنانا اور ان کی تخریب کاری کی سرگرمیوں کو سختی سے محدود کرنا ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے عملی کارروائی کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔
یہ انتہائی سنگین صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان خونریز کشیدگی ایک مرتبہ پھر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سنہ 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی کے جولائی میں ختم ہونے کے بعد سے حوثیوں نے مسلسل سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے اور آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے ہولناک سلسلے کا آغاز کر رکھا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے اعلان کردہ سمندری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی تیل کی برآمدات کو شدید مشکلات میں دھکیل دیا ہے، جبکہ گزشتہ روز ہونے والے حملوں میں ابہا، جازان، نجران اور خمیس مشیط سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے توانائی کی تنصیبات کی سرگرمیاں درہم برہم ہو گئیں۔ ان حالات میں اگر پاکستانی حکام سعودی درخواست پر اس عسکری کارروائی کی منظوری دیتے ہیں، تو یمن کے محاذ پر پاکستان کی یہ براہِ راست شمولیت پورے خطے کی جنگی اور سیاسی صورتحال پر گہرے اور تباہ کن اثرات مرتب کرے گی۔