سعودی عرب پر بڑا حملہ، درجنوں افراد زخمی ہونے کا دعویٰ
ریاض: سعودی عرب کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوگئے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی بن صالح المالکی نے کہا کہ حملوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج حملوں کا بھرپور جواب دینے کے لیے ضروری اقدامات کریں گی۔
دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب پر یمن کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ حوثی خبر رساں ادارے کے مطابق صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز میں مختلف مقامات کو فضائی حملوں اور کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں نے شمالی شہر الحزم میں ایک جیل پر بھی فضائی حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق حملے میں ایک بچے سمیت 7 افراد ہلاک اور ایک خاتون سمیت کم از کم 7 افراد زخمی ہوئے۔ سعودی عرب نے جیل پر حملے کے اس دعوے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر یمن میں کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے 4 جاسوس ڈرون مار گرائے، جن میں ایک سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے۔
سعودی ترجمان نے حوثی ملیشیا کے خلاف ضروری فوجی اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں سعودی عرب کی خودمختاری، قومی اثاثوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کی جائیں گی۔
یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی روکیں اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔