مکہ معاہدے پر عمل کا وقت آگیا، خواجہ آصف
پاکستان معاہدے کا پابند اور اپنا فرض ادا کرے گا، مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں، وزیر دفاع
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں اب وہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے پر عمل کا مرحلہ آچکا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان مکہ معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا، تاہم دفاعی یا عسکری حکمت عملی کی تفصیلات عوامی سطح پر بیان نہیں کی جاسکتیں۔
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کا پیغام ایران تک پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران بطور ریاست خطے میں کوئی نیا محاذ کھولنے سے گریز کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ موجود نہ بھی ہوتا تب بھی مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات کا تحفظ مذہبی فریضہ ہے اور ان مقامات کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں دفاع کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق سہ فریقی معاہدے کے تحت کسی رکن ملک کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں دیگر ممالک اپنی طے شدہ ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں موجودہ حالات اس مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔