اسٹیل ملز بند مگر خرچہ جاری، 3 سال میں 79 ارب کا نقصان
اکستان اسٹیل ملز کا مجموعی نقصان 79.3 ارب روپے تک پہنچ گیا، صرف قرضوں کے سود پر 57.4 ارب خرچ، تنخواہوں اور یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگیاں بھی جاری رہیں
اسلام آباد: طویل عرصے سے بند پاکستان اسٹیل ملز گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران قومی خزانے کیلئے بھاری مالی بوجھ بنی رہی اور مالی سال 2023-24 سے 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 79.3 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
وزارتِ صنعت کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مجموعی نقصان کا بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی پر مشتمل ہے۔ تین سال کے دوران تقریباً 57.4 ارب روپے صرف سود کی مد میں خرچ ہوئے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں اسٹیل ملز کا نقصان 24 ارب روپے رہا۔
اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران سود کی ادائیگی 17.7 ارب روپے رہی، جس میں حکومتی اور کمرشل بینکوں کے قرضوں پر ادا کی جانے والی رقوم شامل ہیں۔
سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 تک پاکستان اسٹیل ملز پر 108 ارب روپے کا کیش ڈیولپمنٹ لون واجب الادا تھا، جس پر سالانہ تقریباً 11.5 ارب روپے سود عائد ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ ادارے پر 40 ارب روپے سے زائد کے بینک قرضے بھی موجود ہیں۔
مل کی سرگرمیاں بند ہونے کے باوجود گزشتہ تین برسوں میں ملازمین کی تنخواہوں پر 3.9 ارب روپے جبکہ ایندھن، بجلی، گیس اور پانی سمیت یوٹیلیٹی اخراجات پر 9.1 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
مالی سال 2025-26 میں تنخواہوں کے اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئے جبکہ یوٹیلیٹی اخراجات میں بھی قریب ایک تہائی کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے قرضوں کی تنظیمِ نو، ڈیٹ ٹو ایکویٹی سواپ اور واجبات کو الگ ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کرنے سمیت مختلف تجاویز دی تھیں تاکہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جاسکے۔
رپورٹ میں پاکستان اسٹیل ملز کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے فرسودہ، غیر مسابقتی اور طویل عرصے سے غیر فعال قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں ادارے کا حصہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔