شہید صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا ڈیٹا بیس بنایا جائے گا: عطاء اللہ تارڑ
صحافیوں کیلئے ہیلتھ انشورنس اور شہداء کے خاندانوں کی معاونت کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی کام ہوگا، وفاقی وزیر اطلاعات
پشاور: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جان کی قربانی دینے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا جبکہ ان کے خاندانوں کی معاونت کیلئے بھی لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے صحافیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور شہداء کے لواحقین پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دورانِ سروس وفات پانے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حوالے سے بھی جامع طریقہ کار وضع کیا جائے گا، جبکہ پشاور کے صحافیوں کیلئے ہیلتھ انشورنس کے اجراء پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ انہوں نے کوہاٹ واقعے کے زخمیوں اور شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کے حوصلے بلند پائے۔ انہوں نے شہید پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کے والد سے ملاقات کا بھی ذکر کیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں نذر آتش ہونے والی ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت بحال اور فعال کردی گئی ہے اور وہاں موجود جدید اسٹوڈیوز صحافیوں کو پوڈکاسٹ اور وی لاگ کی ریکارڈنگ کیلئے فراہم کیے جاسکتے ہیں۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی اور امن و امان کیلئے فراہم کیے گئے فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت سے متعلق متعدد سیاسی تنقیدی دعوے کیے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے اور لانگ مارچ مؤخر کرنے کے معاملے پر مشاورت کی بات ہوئی ہے۔