کوئٹہ کو روزانہ 60 ملین گیلن پانی درکار، واسا صرف 31 ملین گیلن فراہم کرنے کے قابل
167 ٹیوب ویلز غیر فعال، دوسری جانب بروری میں سرکاری بورز کے پانی کی مبینہ فروخت اور ٹینکر مافیا سے روابط کے الزامات، شہری حلقوں کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے۔ واسا حکام کے مطابق شہر کو روزانہ تقریباً 60 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، جبکہ ادارہ صرف 31 ملین گیلن کے قریب پانی فراہم کررہا ہے۔ واسا کے مجموعی 544 ٹیوب ویلز میں سے 167 فنڈز کی کمی کے باعث غیر فعال بتائے گئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ایم ڈی واسا کی جانب سے پیش کیے گئے، جس میں ادارے کی مالی مشکلات، غیر فعال ٹیوب ویلز اور شہر میں پانی کی طلب و رسد کے فرق پر بریفنگ دی گئی۔
دوسری جانب بروری اور کرخسہ کے علاقوں میں پانی کی فراہمی اور سرکاری ٹیوب ویلز کے استعمال سے متعلق سنگین الزامات بھی سامنے آرہے ہیں۔ بعض مقامی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں متعدد بور موجود ہونے کے باوجود شہری پانی کی قلت کا سامنا کررہے ہیں، جبکہ بعض بورز سے پانی کی مبینہ فروخت کی شکایات بھی کی جارہی ہیں۔
مقامی سطح پر واسا کے بعض اہلکاروں کے ٹینکر آپریٹرز اور نجی بور مالکان سے مبینہ مالی روابط کے الزامات بھی لگائے جارہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بروری اور کرخسہ میں واسا کے تمام سرکاری ٹیوب ویلز، ان سے حاصل ہونے والے پانی، اس کی تقسیم اور ٹینکروں کو پانی کی ممکنہ فراہمی کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے اور الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
کوئٹہ میں پانی کی قلت کے دوران نجی ٹینکروں پر شہریوں کا انحصار پہلے بھی رپورٹ ہوچکا ہے، جبکہ شہر میں بڑی تعداد میں نجی کمرشل ٹیوب ویلز کے غیر رجسٹرڈ ہونے کا معاملہ بھی سرکاری بریفنگ میں سامنے آیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف فنڈز کی کمی کو پانی کے بحران کی وجہ قرار دینے کے بجائے واسا کے دستیاب وسائل، سرکاری بورز اور پانی کی تقسیم کے پورے نظام کی شفاف جانچ ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ شہریوں کے حصے کا پانی کہاں اور کس طریقے سے استعمال ہورہا ہے۔