Tameerewatan
tameerewatan

کھلے خشک دودھ کی فروخت پر پابندی،ضلعی انتظامیہ کی کاررواءیاں

تحریر: ہمایوں ارشد
ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر کوئٹہ

بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن اس مستقبل کی بنیاد صحت مند جسم اور بہتر نشوونما پر قاءم ہوتی ہے۔ ایک شیر خوار بچے کے لیے خوراک کا انتخاب محض گھر کی ایک معمولی ضرورت نہیں بلکہ اس کی صحت، نشوونما اور زندگی کے تحفظ سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کو دی جانے والی ہر غذاءی چیز کے معیار اور حفاظت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔دودھ بچوں کی خوراک میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے، لیکن دودھ اسی وقت فاءدہ مند ہو سکتا ہے جب وہ معیاری، محفوظ اور صحت کے اصولوں کے مطابق تیار اور محفوظ کیا گیا ہو۔ اگر اس کے معیار، اصل، اجزا یا محفوظ رکھنے کے طریقہ? کار کے بارے میں ہی یقین نہ ہو تو والدین کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو کیا دے رہے ہیں۔بلوچستان، خصوصاً کوءٹہ میں ایک عرصے سے بچوں کے لیے خشک دودھ کھلے وزن کے حساب سے فروخت کیے جانے کا معاملہ سامنے آتا رہا ہے۔ بعض دکانوں اور میڈیکل اسٹورز پر ایسا پاؤڈر کھلے ڈبوں، تھیلوں یا برتنوں میں موجود ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات مقامی ناموں، غیر واضح برانڈنگ یا بچوں کی تصاویر والے پیکٹس میں بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا والدین کو معلوم ہے کہ وہ اپنے بچے کو جو دودھ دے رہے ہیں، وہ کہاں تیار ہوا، کب تیار ہوا، اس کی میعاد کیا ہے اور اسے کس ماحول میں محفوظ رکھا گیا؟خشک دودھ کیا ہے اور کیا یہ فاءدہ مند ہے؟خشک دودھ بنیادی طور پر دودھ کو صنعتی طریقے سے اس میں موجود پانی سے پاک کرکے پاؤڈر کی شکل میں تیار کیا جاتا ہے۔ اگر یہ کسی باقاعدہ، رجسٹرڈ اور معیاری کمپنی کی تیار کردہ مصنوعات ہو، مناسب طریقے سے تیار اور محفوظ کی گءی ہو اور مکمل لیبلنگ کے ساتھ بند پیکٹ میں فروخت کی جاءے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔بچوں کے لیے مخصوص فارمولا دودھ میں بچے کی ضروریات کے مطابق پروٹین، چکناءی، کاربوہاءیڈریٹس، وٹامنز اور معدنیات شامل کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے ماں کا دودھ دستیاب نہ ہو یا طبی مشورے کے مطابق فارمولا دودھ ضروری ہو تو معیاری فارمولا دودھ ایک قابلِ استعمال متبادل ہو سکتا ہے۔یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا انتہاءی ضروری ہے: مسءلہ خشک دودھ کا نہیں، بلکہ غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ، نامعلوم اور کھلے طریقے سے فروخت ہونے والے دودھ کا ہے۔معیاری کمپنی کا اصل، بند پیکٹ میں دستیاب اور رجسٹرڈ فارمولا دودھ ایک الگ معاملہ ہے، کیونکہ اسے مخصوص معیار اور ضوابط کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے کھلے اور نامعلوم پاؤڈر کو کسی معروف کمپنی کے معیاری فارمولا دودھ کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔کھلے دودھ کا سب سے بڑا مسءلہ کیا ہے؟کھلے خشک دودھ کے استعمال میں سب سے بڑا مسءلہ اس کی قابلِ اعتماد شناخت اور حفاظت ہے۔ جب دودھ کھلے وزن کے حساب سے فروخت کیا جاءے تو عام صارف کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس کی اصل کیا ہے، اسے کب تیار کیا گیا، اس کی میعاد کب ختم ہوگی اور اسے کن حالات میں ذخیرہ کیا گیا۔کھلے برتنوں، ڈبوں یا تھیلوں میں رکھا ہوا پاؤڈر نمی، گردوغبار، حشرات اور جراثیمی آلودگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر کسی مرحلے پر اس میں ملاوٹ ہو جاءے تو والدین کے لیے محض دیکھنے یا چکھنے سے اس کی شناخت کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔یہ معاملہ اس لیے مزید حساس ہے کہ نومولود اور کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔ پاؤڈر کی شکل میں موجود شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ کی تیاری، صفاءی، ذخیرہ اور استعمال میں معمولی سی غفلت بھی صحت کے مساءل کا باعث بن سکتی ہے۔لہٰذا بچوں کے لیے دودھ کا انتخاب صرف قیمت یا ذاءقے کو دیکھ کر نہیں بلکہ معیار، حفاظت، اصل اور مناسب تیاری کو مدنظر رکھتے ہوءے کیا جانا چاہیے۔ضلعی انتظامیہ نے اس مسءلے کے پیشِ نظر وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کوءٹہ نے کھلے غیر رجسٹرڈ خشک دودھ کی فروخت پر پابندی عاءد کردی اس تناظر میں ڈپٹی کمشنر کوءٹہ کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں فوڈ اتھارٹی، محکمہ صحت، ڈرگ انسپکٹرز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں دکانداروں اور میڈیکل اسٹورز کو کھلا غیر رجسٹرڈ خشک دودھ فروخت نہ کرنے کی ہدایت کی گءی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کاررواءی، گرفتاری اور دکان سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔انتظامیہ کی جانب سےاس سلسلے میں عملی کاررواءیاں بھی کی گءیں، جن کے دوران مختلف علاقوں میں متعدد دکانیں سیل کرنے کے ساتھ ساتھ غیر معیاری خشک دودھ فروخت کرنے والے بعض افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔یہ اقدام یقیناً قابلِ تحسین ہے، کیونکہ بچوں کی صحت سے متعلق کسی بھی ایسے کاروبار کی حوصلہ شکنی ضروری ہے جس میں معیار، رجسٹریشن اور مصنوعات کی اصل کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہوں۔صرف پاؤڈر نہیں، تیاری کا طریقہ بھی اہمخشک یا فارمولا دودھ استعمال کرتے وقت خطرہ صرف پاؤڈر کے معیار تک محدود نہیں رہتا۔ اسے تیار کرنے کا طریقہ بھی انتہاءی اہم ہے۔اگر فارمولا دودھ غلط مقدار میں تیار کیا جاءے، غیر محفوظ پانی استعمال کیا جاءے یا بوتل اور برتن مناسب طریقے سے صاف نہ ہوں تو بچے کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے فارمولا دودھ تیار کرتے وقت پیکٹ پر درج ہدایات پر عمل کرنا، صاف پانی استعمال کرنا اور بوتل و دیگر برتنوں کی صفاءی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔جہاں ماں کا دودھ دستیاب ہو، وہاں اسے ترجیح دینا بھی بچے کی صحت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے دودھ خریدتے وقت چند بنیادی باتوں کا خاص خیال رکھیں دودھ ہمیشہ اصل اور بند پیکٹ میں خریدیں،ایکسپاءری یا میعادِ استعمال ضرور چیک کریں،بیچ نمبر اور اجزا کی تفصیل دیکھیں،پیکٹ کی سیل اور حالت کا جاءزہ لیں،کھلے اور نامعلوم پاؤڈر سے حتی الامکان گریز کریں۔فارمولا دودھ ہمیشہ پیکٹ پر درج ہدایات کے مطابق تیار کریں،صاف پانی اور صاف بوتل یا برتن استعمال کریں۔کیا ہر خشک دودھ پر پابندی ہے؟یہ وضاحت عوام کے لیے انتہاءی ضروری ہے کہ حالیہ کاررواءی کا مقصد ہر قسم کے خشک دودھ پر پابندی لگانا نہیں ہے۔کاررواءی کا بنیادی ہدف کھلے، غیر رجسٹرڈ، غیر واضح اور غیر برانڈڈ خشک دودھ کی فروخت کو روکنا ہے۔ لہٰذا معیاری کمپنیوں کے اصل، رجسٹرڈ اور بند پیکٹ میں دستیاب فارمولا دودھ کو کھلے اور نامعلوم پاؤڈر کے برابر سمجھنا درست نہیں۔یہ فرق عوام خصوصاً والدین کے لیے سمجھنا ضروری ہے تاکہ ایک طرف وہ غیر محفوظ مصنوعات سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں اور دوسری طرف معیاری اور ضابطے کے مطابق دستیاب مصنوعات کے بارے میں غیر ضروری غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔پابندی کے بعد اگلا مرحلہ کوءٹہ میں کھلے غیر رجسٹرڈ خشک دودھ کے خلاف پابندی ایک مثبت قدم ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس اقدام کو مستقل نگرانی اور مؤثر عمل درآمد کے ساتھ جاری رکھا جاءے۔متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ بازاروں میں باقاعدگی سے معاءنہ کریں، مشتبہ مصنوعات کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹنگ کراءیں، غیر معیاری مصنوعات کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاررواءی کریں اور عوام میں بھی آگاہی پیدا کریں۔کیونکہ صرف ایک مرتبہ کاررواءی کرنے سے مسءلہ ختم نہیں ہوگا۔ اگر نگرانی کمزور پڑ گءی تو ممکن ہے کہ یہی مصنوعات کسی دوسرے نام، نءے پیکٹ یا مختلف طریقے سے دوبارہ بازار میں آ جاءیں۔بچوں کی صحت پر کوءی سمجھوتا نہیں کیا جاءے بچے اپنی خوراک کے معیار کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے والدین، دکانداروں، طبی ماہرین اور متعلقہ سرکاری اداروں کے فیصلوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی صحت کے معاملے میں ہر فریق کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو دی جانے والی خوراک کے معیار اور اصل کے بارے میں محتاط رہیں۔ دکانداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف معیاری اور قانونی طور پر قابلِ فروخت مصنوعات فراہم کریں، جبکہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کراءیں۔کوءٹہ میں کھلے غیر رجسٹرڈ خشک دودھ کے خلاف حالیہ پابندی اسی لیے ایک خوش آءند قدم ہے۔ تاہم اس اقدام کو مستقل نگرانی، شفاف لیبارٹری ٹیسٹنگ اور عوامی آگاہی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔آخرکار معاملہ صرف دودھ کے ایک پیکٹ کا نہیں، ہمارے بچوں کی صحت اور مستقبل کا ہے۔ اور بچوں کے مستقبل کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت، ملاوٹ یا سمجھوتے کی گنجاءش نہیں ہونی چاہیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More