تحریر۔ مصطفیٰ بزدار
قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض کیلنڈر کی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ وہ ان کی اجتماعی یادداشت، قربانیوں، امیدوں اور مستقبل کے عزم کی علامت بن جاتے ہیں۔ 14 اگست بھی پاکستان کے لیے ایسا ہی ایک تاریخی دن ہے، جب برصغیر کے مسلمانوں نے طویل سیاسی جدوجہد، بے مثال قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد ایک آزاد مملکت حاصل کی۔ یہ دن صرف آزادی کی خوشی نہیں بلکہ اس ذمہ داری کی بھی یاد دہانی ہے کہ اس وطن کو اتحاد، انصاف، ترقی اور باہمی احترام کی بنیاد پر مزید مضبوط بنایا جائے۔
بلوچستان کا ذکر آئے تو اس کی تاریخ، جغرافیہ اور تہذیب پاکستان کی مجموعی شناخت کا ایک اہم باب بن کر سامنے آتی ہے۔ موجودہ بلوچستان کی مختلف ریاستیں، خصوصاً قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران، 1947 میں الگ آئینی اور سیاسی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان ریاستوں اور پاکستان کے درمیان تعلقات مختلف آئینی، سیاسی اور انتظامی مراحل سے گزرے، جن میں مقامی حکمرانوں، قبائلی عمائدین اور ریاستی قیادت نے اپنے اپنے کردار ادا کیے۔ بالآخر یہ ریاستیں پاکستان کے وفاق کا حصہ بنیں اور ایک نئے قومی سفر کا آغاز ہوا۔
تاریخ کے ان ابواب کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں جذبات کے بجائے حقائق، دستاویزی شواہد اور اس وقت کے سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ یہی بالغ نظری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تاریخ اختلافات کو دہرانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے بہتر راستہ تلاش کرنے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔
قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی تقریبات، یومِ آزادی کی خوشیاں اور سبز ہلالی پرچم سے وابستگی کی روایات پروان چڑھتی رہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جذبہ مزید مضبوط ہوا۔ آج گوادر کے ساحلوں سے لے کر چاغی کے ریگزاروں، ژوب کے پہاڑوں، کوئٹہ کی وادیوں، مکران، نصیرآباد، سبی، خضدار اور ڈیرہ بگٹی تک یومِ آزادی بھرپور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ گلیاں سبز ہلالی پرچموں سے سجتی ہیں، نوجوان ریلیاں نکالتے ہیں، بچے قومی ترانے گاتے ہیں، ثقافتی میلوں کا انعقاد ہوتا ہے اور مختلف زبانوں میں وطن سے محبت کے نغمے گونجتے ہیں۔ یہ مناظر اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ بلوچستان کی ثقافتی رنگا رنگی اور قومی شناخت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، ایک دوسرے کی نفی نہیں۔
بلوچستان صرف رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ نہیں بلکہ قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، طویل ساحلی پٹی، قدیم تہذیب، ثقافتی تنوع اور نوجوان آبادی کے اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ریکوڈک اور سیندک جیسے معدنی منصوبے، گوادر کی بندرگاہ، ساحلی معیشت، توانائی کے نئے امکانات، تعلیمی اداروں کی توسیع، سڑکوں اور مواصلاتی نظام میں بہتری اور نوجوانوں کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کی ترقی کے مستقبل میں ایک مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ بلوچستان کئی دہائیوں سے امن و امان، پسماندگی، دہشت گردی اور بعض سیاسی و سماجی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امن، مکالمہ، قانون کی حکمرانی، تعلیم، روزگار، شفاف طرزِ حکمرانی اور آئینی عمل کی مضبوطی کو بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب جب بھی وطن کو مشکلات کا سامنا ہوا، بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ اپنی حب الوطنی، استقامت اور قربانیوں کا ثبوت دیا۔ قبائلی عمائدین، اساتذہ، طلبہ، نوجوان، مزدور، کسان، خواتین، سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ افراد نے اپنی اپنی ذمہ داریوں کے ذریعے امن، استحکام اور ترقی کے لیے کردار ادا کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان نے بے شمار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جنہیں قومی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
بلوچستان کی اصل طاقت اس کی متنوع ثقافت، مختلف زبانیں، قبائلی روایات، مہمان نوازی، رواداری اور باہمی احترام ہیں۔ یہی خصوصیات پاکستان کی اجتماعی شناخت کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ قومی یکجہتی کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ مختلف شناختوں، زبانوں اور ثقافتوں کو ایک مشترکہ قومی مقصد کے تحت ساتھ لے کر چلنا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو ایک مضبوط وفاق کی بنیاد بنتا ہے۔
یومِ آزادی ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ماضی کے سیاسی اختلافات اور تاریخی مراحل اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن قوموں کی اصل کامیابی اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھ کر مستقبل کو بہتر بنائیں۔ بلوچستان کی نئی نسل تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروبار، کھیل، فنونِ لطیفہ اور سماجی خدمت کے میدانوں میں جس اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، وہ اس بات کی امید دلاتی ہے کہ آنے والے برس ترقی، خوشحالی اور قومی ہم آہنگی کے ہوں گے۔
14 اگست کا دن صرف چراغاں، آتش بازی یا تقریبات کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے وطن، اپنی سرزمین اور آنے والی نسلوں سے ایک نئے عہد کی تجدید کا دن ہے۔ یہ عہد کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں نہیں بدلنے دیں گے، آئین اور قانون کی بالادستی کو مضبوط کریں گے، انصاف اور مساوی مواقع کو فروغ دیں گے، اور بلوچستان سمیت پاکستان کے ہر خطے کو ترقی کے مساوی سفر میں شریک بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
بلوچستان کی سرزمین نے پاکستان کو معدنی وسائل دیے، ساحلی اہمیت دی، بہادر سپوت دیے، ثقافتی رنگ دیے اور بے شمار قربانیاں دیں۔ آج بھی یہ سرزمین اسی امید کے ساتھ مستقبل کی جانب دیکھ رہی ہے کہ امن، ترقی، تعلیم اور باہمی احترام کی بنیاد پر ایک ایسا پاکستان تعمیر ہو جہاں ہر شہری خود کو برابر کا شریک محسوس کرے۔
یومِ آزادی کا اصل پیغام یہی ہے کہ تاریخ کے مختلف سیاسی مراحل اور زمینی حقائق کے باوجود آج بلوچستان اور پاکستان کا رشتہ مشترکہ آئین، مشترکہ ذمہ داری، باہمی احترام، اجتماعی مفاد اور ایک روشن مستقبل کے عزم پر قائم ہے۔ جب تک یہ رشتہ اعتماد، انصاف، مساوات اور قومی یکجہتی سے مضبوط ہوتا رہے گا، پاکستان کا مستقبل بھی اتنا ہی روشن، مستحکم اور خوشحال ہوگا۔