حکومت کا بڑا فیصلہ، ملک بھر میں کفایت شعاری مہم منظور
سرکاری گاڑیوں کا ایندھن 50 فیصد کم، نئی گاڑیوں کی خریداری اور غیر ضروری بیرون ملک دوروں پر پابندی، مارکیٹیں رات 9 اور شادی ہالز 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی، کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ سے متعلق اجلاس میں حکومتی اخراجات میں کمی اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں حکومت اور صاحبِ استطاعت طبقے کو پہلے قربانی دینا ہوگی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کم اور متوسط آمدن والے شہریوں کے لیے ایندھن پر سبسڈی کا آغاز ہوچکا ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کی سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔
کفایت شعاری اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی منظوری دی گئی ہے۔ ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر ضروری خدمات کی گاڑیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی، تاہم انتظامی اور غیر آپریشنل گاڑیوں کو کوئی استثنا حاصل نہیں ہوگا۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے غیر تنخواہی اور ترقیاتی اخراجات پر مشتمل بجٹ میں 5 فیصد کمی کی بھی منظوری دی، جبکہ سرکاری سطح پر ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ آئی ٹی سے متعلق ضروری سامان کے علاوہ دیگر پائیدار اشیا کی خریداری بھی روک دی گئی ہے۔
تین ماہ کے لیے سرکاری دوروں اور غیر ضروری بیرون ملک سفر پر بھی پابندی ہوگی۔ ناگزیر غیر ملکی دوروں کی صورت میں وفاقی وزراء، مشیر، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ سرکاری امور کے لیے ویڈیو اور ٹیلی کانفرنسنگ کے زیادہ استعمال کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
سرکاری عشائیوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم غیر ملکی وفود کے اعزاز میں ضروری تقریبات اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ حکومتی سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں میں بھی غیر ضروری اخراجات محدود کیے جائیں گے۔
توانائی کی بچت کے اقدامات کے تحت دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور عمومی کاروباری مراکز رات 9 بجے تک جبکہ شادی ہالز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز سمیت الگ قائم پھل و سبزی کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
فارمیسیز، ہسپتال اور طبی مراکز، بیکریاں، پٹرول و سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ مراکز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو کاروباری اوقات کی ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ شادیوں اور دیگر تقریبات میں سنگل ڈش کی پابندی بھی برقرار رہے گی۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ فیصلوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، محکموں، سرکاری اداروں اور صوبائی حکومتوں سے رپورٹس حاصل کرے گی اور پیش رفت سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کے تمام فیصلوں پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ایندھن اور توانائی کی بچت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔