بنگلادیش میں بڑا فیصلہ، عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت
سابق وزیر عبیدالقادر، محمد علی عرفات اور دیگر اہم رہنما سزا پانے والوں میں شامل، تمام ساتوں ملزمان کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا
ڈھاکا: بنگلادیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-2 نے عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری اور سابق وزیر عبیدالقادر سمیت پارٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے سات اہم رہنماؤں کو سزائے موت سنادی۔
یہ فیصلہ 2024 کی جولائی-اگست عوامی تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔ تین رکنی ٹریبونل کی سربراہی جسٹس نذرالاسلام چوہدری نے کی۔
سزائے موت پانے والوں میں عبیدالقادر کے علاوہ عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری اے ایف ایم بہاؤالدین نسیم، سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات محمد علی عرفات، جوبو لیگ کے صدر شیخ فضل شمس پراش اور جنرل سیکریٹری معین الحق خان نکھل شامل ہیں۔
بنگلادیش چھاترا لیگ کے صدر صدام حسین اور جنرل سیکریٹری شیخ ولی آصف عنان کو بھی اسی مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔
استغاثہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزمان نے 2024 کی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے ہدایات دینے، کارکنوں کو اکسانے اور پرتشدد کارروائیوں میں کردار ادا کیا، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
تمام ساتوں ملزمان اس وقت مفرور ہیں اور ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی ان کی غیر موجودگی میں مکمل کی گئی۔ جولائی 2024 کی تحریک سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں یہ ٹریبونل کا ساتواں فیصلہ ہے۔