Tameerewatan
tameerewatan

کوئٹہ،آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ

کوئٹہ: آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ

صوبائی دارالحکومت میں روٹی کے حصول کی جنگ مزید سخت ہو گئی ہے جہاں انتظامیہ کی مبینہ رٹ نہ ہونے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے تمام ریکارڈ پاش پاش ہو گئے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق فلور ملز مالکان نے ایک بار پھر شہریوں کی جیبوں پر ڈاکو ڈالتے ہوئے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں مزید 70 روپے کا ظالمانہ اضافہ کر ڈالا ہے، جس کے بعد پرانا ریٹ قصہ پارینہ بن گیا اور نیا بم گرنے سے قیمت 2,850 روپے سے چھلانگ لگا کر براہ راست 2,920 روپے کی خطرناک حد کو چھونے لگی ہے۔

آٹے کی قیمتوں میں اس اندھا دھند اور مسلسل اضافے کے باعث کوئٹہ کے باسیوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔ دوسری جانب، فلور ملز مالکان نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عجیب و غریب توجیہات پیش کرنا شروع کر دی ہیں اور گندم کی دستیابی میں شدید مشکلات اور اس کی قیمتوں میں مصنوعی یا طبعی اضافے کو اپنے اس غیر انسانی فیصلے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ ملز مالکان نے کھلم کھلا دھمکی بھی دے ڈالی ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتیں مزید آسمان سے باتیں کریں گی اور عام آدمی کے لیے سانس لینا بھی محال ہو جائے گا۔

عوام کا جینا دوبھر ہونے پر شہریوں اور صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی رٹ اور وزراء کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔ غریب عوام نے فوری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اس کھلی لوٹ مار کا نوٹس لیا جائے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں پہلے ہی ہونے والے ہوشربا اضافے نے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر رکھے ہیں اور اس نئے اضافے نے عوام پر مالی بوجھ کے وہ پہاڑ توڑ دیے ہیں جن کا اٹھانا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More