سرکاری ملازمین کیلئے بہت ہی بری خبر آگئی
کوئٹہ: چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت سیکریٹریز کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں تمام انتظامی سیکریٹریز اور ڈویژنل کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبے کی انتظامی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، سرکاری دفاتر میں افسران و ملازمین کی حاضری، خالی آسامیوں، بھرتیوں، ترقیوں اور عوامی خدمات کی فراہمی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
چیف سیکریٹری نے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ اپنے ماتحت محکموں میں افسران و ملازمین کی بروقت اور مستقل حاضری یقینی بنانے کیلئے مؤثر نظام وضع کیا جائے اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کی کنڈیم نیشن کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔ ناقابلِ استعمال گاڑیوں کی نشاندہی کرکے انہیں قواعد کے مطابق کنڈیم یا نیلام کرنے پر بھی غور کیا گیا تاکہ سرکاری وسائل کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جاسکے۔
مختلف محکموں میں خالی آسامیوں، ترقیوں اور ابتدائی بھرتیوں سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ تمام معاملات میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹائے جائیں۔
چیف سیکریٹری نے تمام صوبائی محکموں میں فوری طور پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت شہریوں کو سرکاری معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے، اس لیے معلومات کی فراہمی کیلئے درخواستوں پر بروقت کارروائی ضروری ہے۔
انہوں نے تمام صوبائی محکموں کی ویب سائٹس فعال بنانے اور ان پر تازہ ترین خبریں، سرکاری اعلانات اور عوامی خدمات سے متعلق معلومات باقاعدگی سے اپڈیٹ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ صوبائی محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے، انتظامی شفافیت، میرٹ پر بھرتیوں اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں اور جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔