Tameerewatan
tameerewatan

افغان طلبہ سے اظہارِ یکجہتی، خواجہ آصف نے پاکستانی طلبہ کو خبردار کردیا

پانچ دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی، ایک سیاسی جماعت کی محبت میں اتنا آگے نہ جائیں کہ پاکستانی خون سستا لگنے لگے، وزیر دفاع

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طلبہ کے حق میں آواز اٹھانے والے پاکستانی طلبہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے پانچ دہائیوں تک افغان شہریوں کو پناہ دی اور اپنے محدود وسائل میں انہیں شریک کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان نے افغانستان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید کی تھی کہ سرحد محفوظ ہوگی اور دونوں ہمسایہ ممالک امن سے رہیں گے۔

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی مساجد، اسکولوں، بازاروں اور فوج پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں میں 70 سے 80 فیصد افغان ہوتے ہیں۔ انہوں نے افغانوں کی جانب سے بھارت کے ساتھ یکجہتی کے اظہار پر بھی تنقید کی۔

خواجہ آصف کے مطابق ان کے علاوہ پاکستان کی فوجی اور سول قیادت کے افغان حکام سے براہِ راست اور بالواسطہ رابطے مسلسل جاری رہے، تاہم ان کے بقول اس کے باوجود پاکستان کے خلاف رویے میں بہتری نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ کی جانب سے افغان طلبہ سے اظہارِ یکجہتی محبت سے زیادہ ان کے سیاسی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں کی میزبانی اور وسائل میں شراکت کے باوجود حالات میں مطلوبہ تبدیلی نہیں آئی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغان طلبہ کی حمایت کرنے والے پاکستانی طلبہ خیرسگالی کیلئے کسی افغان تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستانیوں کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے اور کسی سیاسی جماعت کی حمایت میں اس حد تک نہیں جانا چاہیے کہ پاکستانیوں کا خون سستا محسوس ہونے لگے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More