60 فیصد پاکستانی تعلیمی نظام سے ناخوش، سروے
بھاری فیسیں اور کمرشلائزیشن سب سے بڑا مسئلہ قرار، معیارِ تعلیم، تعلیمی رسائی اور امتحانی نظام پر بھی شہریوں کے تحفظات
اسلام آباد: انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے نئے سروے میں ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق پاکستانیوں کی رائے سامنے آگئی، جس میں 60 فیصد افراد نے موجودہ نظامِ تعلیم پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
سروے کے مطابق 29 فیصد افراد نے تعلیمی شعبے میں بڑھتی کمرشلائزیشن اور بھاری فیسوں کو بنیادی مسائل میں سرفہرست قرار دیا۔
اسی طرح 19 فیصد نے ناقص معیارِ تعلیم جبکہ 15 فیصد نے تعلیم تک رسائی میں مشکلات کو اہم مسئلہ قرار دیا۔ 14 فیصد افراد نے موجودہ امتحانی نظام پر تحفظات کا اظہار کیا۔
نتائج میں 11 فیصد افراد نے فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے محدود مواقع جبکہ 9 فیصد نے سیاسی مداخلت کو تعلیمی نظام کو درپیش مسائل کی ایک وجہ قرار دیا۔
سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد تعلیمی نظام میں معیار، اخراجات اور رسائی سمیت مختلف شعبوں میں بہتری کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔