ترکیہ کے پہاڑوں میں صدیوں پرانا راز فاش، کیا زمین کے اندر واقعی حضرت نوح کی کشتی دفن ہے؟
ترکیہ کے کوہ ارارات کے قریب واقع دوروپینار کے مقام پر موجود ایک کشتی نما ساخت نے دنیا بھر کے محققین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے، جہاں ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہاں حضرت نوح علیہ السلام کی تاریخی کشتی کے ممکنہ آثار موجود ہو سکتے ہیں۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس پراسرار مقام پر جدید ریڈار ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں سے تحقیقات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔
تحقیقی ٹیم نے علاقے سے مٹی کے تقریباً ایک ہزار نمونے حاصل کیے ہیں، جن کے لیبارٹری تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض نمونوں میں کاربن اور نامیاتی مواد موجود ہے جبکہ چند گز کے فاصلے سے لیے گئے دیگر نمونوں میں یہ عناصر سرے سے غائب ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نامیاتی اجزا زیرِ زمین موجود قدیم لکڑی کے باقیات کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جدید ریڈار اسکینز کے ذریعے زمین کے 20 فٹ نیچے ایسی غیر معمولی ساختیں دیکھی گئی ہیں جو عام قدرتی پہاڑی سلسلوں سے بالکل مختلف اور کسی بحری جہاز کی شکل سے مشابہت رکھتی ہیں۔
اگرچہ یہ مقام 1959 کی فضائی تصاویر اور 1948 کے زلزلوں کے بعد سے متنازعہ اور دلچسپی کا مرکز رہا ہے، تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تاحال لکڑی کا کوئی براہِ راست ثبوت ہاتھ نہیں لگا۔ اس سنسنی خیز تحقیق کے حتمی نتائج کے لیے ڈرلنگ اور مزید سائنسی تجزیے جاری ہیں، لیکن ابتدائی شواہد نے دنیا بھر میں کھلبلی مچا دی ہے۔