سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کو بڑا ریلیف
خیبر پختونخوا حکومت نے ملازمین کے حقوق اور فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پالیسی میں بڑی تبدیلی کر دی ہے، جس کے تحت فوت یا معذور ہونے والے سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کو بھی مخصوص کوٹے کے تحت سرکاری ملازمت کے لیے مکمل طور پر اہل قرار دے دیا گیا ہے۔
محکمہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق سال 2020 اور 2023 میں جاری کیے جانے والے تمام سابقہ مراسلے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ان پرانی ہدایات کے تحت شادی شدہ بیٹی کے لیے شوہر سے علیحدگی اور مالی طور پر والدین پر انحصار جیسی سخت اور نامناسب شرائط عائد کی گئی تھیں جن کی وجہ سے مستحق خواتین اس حق سے محروم رہ جاتی تھیں۔ حکومت نے یہ اہم فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 17 مارچ 2025 کے حکم اور محکمہ قانون کی رائے کی روشنی میں کیا ہے، جس کے مطابق اب کسی بھی شادی شدہ خاتون کو ملازمت کے حق سے محروم کرنے کے لیے نہ تو شوہر سے علیحدگی کی شرط لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اہلیت کا تعین صرف ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ 26 ستمبر 2024 سے قبل پیش آنے والے معاملات سے متعلق زیرِ التوا تمام درخواستوں اور کیسز کا فیصلہ اب ان ہی نئے اور منصفانہ قوانین کے تحت کیا جائے گا۔ محکمہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ نے اس اہم فیصلے سے صوبے کے تمام متعلقہ محکموں، ڈائریکٹوریٹس اور ضلعی انتظامیہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔