Tameerewatan
tameerewatan

سرفراز بگٹی نے عالمی عدالت میں بھارت کو ہر محاذ پر شکست دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا

سرفراز بگٹی نے عالمی عدالت میں بھارت کو ہر محاذ پر شکست دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے مؤقف کی ایک انتہائی اہم قانونی اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو کسی بھی صورت میں یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا التوا میں نہیں رکھ سکتا، کیونکہ یہ معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کی تمام شقوں پر عمل کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے۔

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے تمام کمزور اور بے بنیاد جوازوں کو سرے سے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان جوازوں میں بھارت کی خود مختاری، پاکستان پر لگائے گئے مبینہ الزامات، دہشت گردی کے دعوے، حالات میں تبدیلی، مسلح تنازعات اور مختلف جوابی اقدامات جیسے نکات شامل تھے۔ عدالت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس معاہدے میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا اس کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک یعنی پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ایک نئے معاہدے کا ہونا ناگزیر ہے۔ یہ فیصلہ دریائے سندھ کے پانیوں پر پاکستان کے دیرینہ، اٹل حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے معاملے پر بھی پاکستان کی درخواست پر عدالت کی جانب سے عبوری اقدامات کی منظوری ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس حکم کے تحت بھارت کو ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کے مخصوص حصوں پر مقررہ سطح سے زیادہ کنکریٹنگ کرنے سے روک دیا گیا ہے، اور اسے منصوبے کے تعمیراتی شیڈول میں ہونے والی تمام تبدیلیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنا ہوگی۔ یہ تمام قانونی پابندیاں نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک سختی سے برقرار رہیں گی، جبکہ اس پورے معاملے پر حتمی فیصلہ متوقع طور پر جولائی 2027 میں سامنے آئے گا۔

بیان کے آخر میں میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور پُرامن مذاکراتی عمل پر بھرپور اعتماد کیا ہے، اور عالمی ثالثی عدالت کا یہ متفقہ فیصلہ اسی اصول کی بہترین توثیق ہے۔ پاکستان اپنے قیمتی آبی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ بھی ہر قانونی، سفارتی اور عالمی فورم پر بھرپور اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More