Tameerewatan
tameerewatan

خضدار، اسما جتک کے والد کے قتل کیس میں اہم پیشرفت

خضدار، اسما جتک کے والد کے قتل کیس میں اہم پیشرفت

خضدار: خضدار پولیس نے اسما جتک کے والد عنایت اللہ جتک کے قتل کیس میں مرکزی نامزد ملزم ظہور جمالزئی کے گھر اور مبینہ ٹھکانوں پر کارروائی کرتے ہوئے 6 مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے اور اسلحہ و دیگر سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ مرکزی نامزد ملزم تاحال گرفتار نہیں ہو سکا۔
ڈی آئی جی خضدار وزیر خان ناصر نے ہفتے کو خضدار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی، آر او خضدار، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او پر مشتمل پولیس ٹیم نے انجیرہ میں کارروائی کی۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 6 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جن سے تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کا اس قتل کیس یا دیگر مقدمات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق کارروائی کے دوران ایک ایل ایم جی، راکٹ لانچر، کلاشنکوف، دیگر رائفلیں، مختلف اقسام کا ایمونیشن، مبینہ طور پر منشیات، دو گاڑیاں، موبائل فونز اور بعض اہم دستاویزات بھی تحویل میں لی گئیں۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم کے گھر سے ایک تہہ خانہ بھی برآمد ہوا، جہاں سے زنجیریں ملیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم کارروائی کے وقت وہاں کوئی مغوی موجود نہیں تھا۔
ڈی آئی جی خضدار نے بتایا کہ مرکزی نامزد ملزم ظہور جمالزئی کے خلاف قتل کے 10 مقدمات درج ہیں، جبکہ ایک قتل کے مقدمے میں اسے عدم موجودگی میں سزائے موت سنائے جانے کا بھی ریکارڈ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس اداروں اور مقامی سطح پر تعاون حاصل کیا جا رہا ہے، اور ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اس سے قبل 19 اگست کو بھی پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم مرکزی نامزد ملزم تاحال مفرور ہے۔
یاد رہے کہ 4 اگست 2026 کو خضدار میں ریٹائرڈ اسکول ٹیچر عنایت اللہ جتک کو فائرنگ کے ایک واقعے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ واقعے سے قبل ان کی بیٹی اسما جتک نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے ایک شخص پر مبینہ طور پر خاندان کو رشتے کے معاملے پر دھمکانے کا الزام عائد کیا تھا۔
پولیس نے عنایت اللہ جتک کے قتل کا مقدمہ ظہور جمالزئی سمیت 4 افراد کے خلاف درج کیا تھا۔
مقتول کے خاندان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رشتے کے معاملے پر تنازع 2011 سے جاری ہے اور اس دوران خاندان سے وابستہ متعدد افراد مختلف واقعات میں قتل ہو چکے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل تصدیق اور تمام واقعات میں مبینہ روابط کا تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا باقی ہے۔
واقعے پر بلوچستان اسمبلی میں بھی احتجاج کیا گیا تھا، جبکہ بلوچستان حکومت نے سابق کمشنر قلات ڈویژن طفیل بلوچ کی سربراہی میں واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔
شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More