Tameerewatan
tameerewatan

خاموش قاتل کا انکشاف، ماہرین نے بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کا بالکل نیا طریقہ بتا دیا

خاموش قاتل کا انکشاف، ماہرین نے بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کا بالکل نیا طریقہ بتا دیا

اسلام آباد: ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے طبی ماہرین نے خوراک میں پوٹاشیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف نمک کا استعمال کم کرنا کافی نہیں، بلکہ مناسب مقدار میں پوٹاشیم لینا بھی بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو سوڈیم یعنی نمک کی مقدار محدود کرنے کا مشورہ دیا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک میں سوڈیم اور پوٹاشیم کا توازن بھی صحت پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔

ایک حالیہ طبی رپورٹ کے مطابق سوڈیم کی مقدار کم کرنے اور پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں کو خوراک کا حصہ بنانے سے بلڈ پریشر کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پوٹاشیم جسم سے اضافی سوڈیم خارج کرنے اور خون کی شریانوں کو معمول کے مطابق کام کرنے میں معاونت کرتا ہے۔

پوٹاشیم بلڈ پریشر کیسے کم کرتا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق جسم میں پوٹاشیم مناسب مقدار میں موجود ہو تو یہ سوڈیم کے اثرات کو متوازن کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ پوٹاشیم خون کی شریانوں کے پھیلاؤ میں بھی کردار ادا کرتا ہے، جس سے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایک میٹا تجزیاتی تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ روزانہ تقریباً 2 ہزار ملی گرام پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے سے ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے سسٹولک بلڈ پریشر میں تقریباً 5 ملی میٹر مرکری جبکہ ڈائسٹولک بلڈ پریشر میں تقریباً 3 ملی میٹر مرکری تک کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں، دالیں اور دیگر قدرتی غذائیں متوازن خوراک کا حصہ بنا کر بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

نمک کا استعمال کتنا ہونا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن روزانہ 2,300 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم استعمال نہ کرنے کی سفارش کرتی ہے، جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے روزانہ تقریباً 1,500 ملی گرام سوڈیم کا ہدف زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔

طبی ماہرین نے توجہ دلائی ہے کہ خوراک میں سوڈیم کی بڑی مقدار صرف گھر میں استعمال کیے جانے والے نمک سے نہیں آتی بلکہ ریسٹورنٹ کے کھانوں، پیک شدہ اشیا، ڈبہ بند خوراک، منجمد کھانوں، ڈبل روٹی اور مختلف اسنیکس میں بھی سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے۔

اسی لیے ماہرین صارفین کو کھانے پینے کی اشیا خریدتے وقت پیکٹ پر درج غذائی معلومات ضرور دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

پوٹاشیم کے لیے کون سی غذائیں بہتر ہیں؟

ماہرین کے مطابق کیلا پوٹاشیم کے حصول کا ایک معروف ذریعہ ہے، تاہم اس کے علاوہ خربوزہ، دالیں، سفید لوبیا، سادہ دہی، پالک، آلو، دودھ، سالمن مچھلی اور ایڈامامے سمیت کئی غذاؤں میں بھی پوٹاشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے کے لیے روزانہ تقریباً 3,500 سے 5,000 ملی گرام پوٹاشیم حاصل کرنا مفید ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پوٹاشیم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے عموماً قدرتی غذاؤں کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ سپلیمنٹس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔

کن افراد کے لیے پوٹاشیم بڑھانا نقصان دہ ہوسکتا ہے؟

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر شخص کے لیے خوراک میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانا مناسب نہیں۔ گردوں کے دائمی امراض، ہارٹ فیلئر یا بعض مخصوص ادویات استعمال کرنے والے افراد کو پوٹاشیم کی مقدار میں اضافہ کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

اسی طرح جن افراد کے خون میں پوٹاشیم پہلے ہی زیادہ ہو، انہیں بھی طبی ماہر کی ہدایت کے بغیر پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں یا سپلیمنٹس کا استعمال بڑھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر اور دل کی صحت کے لیے مجموعی طور پر متوازن غذا اپنانا، نمک کا استعمال محدود رکھنا اور ضرورت کے مطابق قدرتی پوٹاشیم والی غذائیں شامل کرنا مفید حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More