ڈی جی آئی ایس پی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے میڈیا کے سامنے ایسا کیا کہہ دیا کہ سب حیران رہ گئے؟
اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں افغان دہشتگردوں کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ہونے والے خودکش حملوں میں زیادہ تر حملہ آور افغان شہری تھے، جبکہ ٹانک اور کراچی میں ہونے والے واقعات میں بھی افغان دہشتگردوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے۔
پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس اداروں نے رواں سال اب تک 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں دہشتگرد ہلاک اور ان کے نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال دہشتگردی کے باعث مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق ملک بھر میں دہشتگردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں خیبرپختونخوا میں ایک ہزار 971، بلوچستان میں ایک ہزار 148 جبکہ دیگر علاقوں میں 26 واقعات پیش آئے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 2025 میں 2 ہزار 597 دہشتگرد ہلاک کیے گئے تھے، جبکہ رواں سال کے دوران اب تک 2 ہزار 84 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
دہشتگردوں کے لیے کوئی رعایت نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ریاست پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے، دہشتگردوں کے لیے کسی قسم کی مفاہمت یا رعایت کی گنجائش نہیں۔ ان کے پاس دو راستے ہیں، یا وہ آئین و قانون کے مطابق ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالیں یا پھر سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کا سامنا کریں۔
انہوں نے کہا کہ جب دہشتگردوں کی براہ راست حکمت عملی ناکام ہوئی تو انہوں نے افغانستان میں موجود سہولت کاری کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
بلوچستان سے متعلق منفی تاثر مسترد
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ زمینی حقائق مختلف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں سیکیورٹی فورسز زیادہ آپریشنز کرتی ہیں وہاں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں اور مقابلوں کی تعداد بھی زیادہ نظر آتی ہے، کیونکہ ریاستی دباؤ کے باعث دہشتگرد کارروائیوں کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہے اور تمام معاملات آئینی دائرے میں رہتے ہوئے چلائے جاتے ہیں۔
حقوق کے ساتھ فرائض بھی ضروری ہیں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہر شہری کو حقوق کے مطالبے سے پہلے اپنی آئینی ذمہ داریوں اور فرائض کو سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی پابندی ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی شناخت سب سے مقدم ہونی چاہیے اور ہر پاکستانی کی پہلی شناخت پاکستان ہونا ضروری ہے۔ صوبائی، لسانی یا نسلی شناختیں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم قومی مفاد کو ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔
بلوچستان کے مسائل اور فرسودہ نظام
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ صرف دہشتگردی نہیں بلکہ ایک فرسودہ سماجی اور قبائلی نظام بھی ہے جو عام شہریوں کی ترقی میں رکاوٹ بنتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض بااثر عناصر نہیں چاہتے کہ عام شہری تعلیم حاصل کریں، ترقی کریں یا اہم شعبوں میں آگے بڑھیں۔ ان کے مطابق ایسے عناصر اپنے مفادات کے لیے بدامنی اور دہشتگردی کو استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل آئین، قانون، ریاستی رٹ اور عوامی ترقی میں ہے، جبکہ کسی بھی دباؤ یا منفی بیانیے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔