مواد پر جائیں

کوئٹہ 15°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

سعودی عرب کا دفاع ہر صورت کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو کے اہم اقتباسات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی فوجی دستے مختلف شعبوں اور صلاحیتوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں، اس لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اچانک قائم ہونے والا اتحاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت کیے جانے والے تمام اقدامات دفاعی نوعیت کے ہوں گے۔ سعودی عرب میں کون سے فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے اور انہیں کس انداز میں استعمال کیا جائے گا، اس کا فیصلہ متعلقہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خطے میں نئے سیکیورٹی چیلنجز سامنے آئے ہیں اور مشترکہ دفاعی معاہدہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ان کے مطابق معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی ملک کو دشمن یا دوست قرار دینا نہیں بلکہ سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان تنازع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے پرامن حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں غیر جانب دار ثالث کی حیثیت سے کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی علاقائی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کا بنیادی مفاد خطے میں امن و استحکام ہے اور تمام دوست ممالک کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جنگ کو مزید پھیلانے سے کسی بھی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔