مواد پر جائیں

کوئٹہ 16°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

ملکی معیشت پر احسن اقبال کے تحفظات، وزیراعظم کو اہم مراسلہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے موجودہ معاشی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے خبردار کیا کہ قرضوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیوں سے حاصل ہونے والا استحکام دیرپا ثابت نہیں ہوگا۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک کی موجودہ معاشی حکمت عملی پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو اہم مراسلہ ارسال کردیا، جس میں معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ملکی معیشت پر احسن اقبال کے تحفظات، وزیراعظم کو اہم مراسلہ

احسن اقبال نے اپنے مراسلے میں موجودہ معاشی استحکام کو محدود اور قرضوں پر انحصار کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں مسلسل کمی اور مزید قرض لینے سے معیشت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط نہیں بنایا جاسکتا۔

وفاقی وزیر نے وزیراعظم کو معاشی اصلاحات کے لیے آٹھ نکاتی فریم ورک بھی پیش کیا ہے، جس میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے، برآمدات کے فروغ اور ترقیاتی سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 2018 میں وفاقی ترقیاتی اخراجات مجموعی ملکی پیداوار کے 2.6 فیصد کے برابر تھے، جو رواں مالی سال کم ہوکر صرف 0.8 فیصد رہ گئے ہیں۔

احسن اقبال کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں اس قدر کمی سے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، ٹیکنالوجی، آبی وسائل اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے، جس کے طویل مدت میں ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

آئندہ انتخابات سے متعلق اہم نشاندہی

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں ہوگا کہ حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا تھا اور اس نے معیشت کو مستحکم کیا۔

ان کے مطابق 2029 میں عوام حکومتی کارکردگی کا جائزہ روزگار، آمدنی، مہنگائی، بجلی اور توانائی کی قیمتوں، سرمایہ کاری اور معاشی مواقع کی بنیاد پر لیں گے۔

آئی ایم ایف پروگرام پر بھی تحفظات

احسن اقبال نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اہداف کے حصول کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مالیاتی خسارہ کم کرنا ضروری ہے، تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس مقصد کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات ملکی ترقی کو کس حد تک متاثر کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، ٹیکس وصولیوں کا نظام ڈیجیٹل بنایا جائے اور کم ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں کو مؤثر انداز میں ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے۔

انہوں نے وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی کو مشترکہ طور پر مالی سال 2028-29 تک کے لیے واضح معاشی اہداف مرتب کرنے کی تجویز بھی دی۔

احسن اقبال کے مطابق پاکستان کو ایسی معاشی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور عوام کی آمدنی میں اضافے کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہو۔