مواد پر جائیں

کوئٹہ 16°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بزنس

آئی ایم ایف کی شرائط، بجلی اور گیس صارفین کیلئے بڑی تبدیلی کی تیاری

حکومت کا موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی نظام ختم کرنے کا منصوبہ، آئندہ سال سے مالی رعایت صرف مستحق اور کم آمدنی والے گھرانوں تک محدود کرنے کی تجویز۔

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت بجلی اور گیس کے شعبوں میں اہم اصلاحات کی تیاری تیز کردی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی نظام تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط، بجلی اور گیس صارفین کیلئے بڑی تبدیلی کی تیاری

ذرائع کے مطابق حکومت بجلی اور گیس پر دی جانے والی سبسڈی کو عمومی صارفین کے بجائے صرف مستحق اور کم آمدنی والے گھرانوں تک محدود کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت بجلی کے صارفین کے لیے نیا سبسڈی نظام جنوری 2027 سے متعارف کرانے کی تیاری ہے، جبکہ گیس صارفین کے لیے نئی پالیسی یکم جولائی 2027 سے نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے عالمی بینک کے تعاون سے مستحق صارفین کی شناخت کے لیے سماجی و اقتصادی رجسٹری پر کام شروع کردیا ہے، جس کے ذریعے مالی معاونت کے اہل گھرانوں کا تعین کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے صارفین کی رجسٹریشن نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ رجسٹریشن کے بعد صارفین کی معلومات کی تصدیق کی جائے گی اور انہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ریکارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔

نئے نظام کے تحت بجلی کے شعبے میں ٹیرف کے فرق کو پورا کرنے والی سبسڈی اور کراس سبسڈی ختم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، جبکہ گیس صارفین کے لیے بھی موجودہ رعایتی نظام کی جگہ مستحق گھرانوں کو براہ راست مالی معاونت دینے کا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بنیادی ٹیرف میں ردوبدل کے لیے متعلقہ درخواستیں بھی جمع کرادی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان اصلاحات کا ایک اہم مقصد توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرض کے دباؤ کو کم کرنا اور حکومتی سبسڈی کو زیادہ مؤثر انداز میں مستحق افراد تک پہنچانا ہے۔

حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات سے متعلق پیش رفت سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا ہے۔

تاہم مجوزہ تبدیلیوں کے تحت مختلف صارفین کے بلوں پر پڑنے والے حتمی اثرات اور نئے نرخوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔